28 ہزار گھروں کے لیے ہمیں 7 کروڑ روپے کابجٹ ملا ہے اوران میں سے 17 ہزار گھرصرف اسلام آباد میں ہیں ، فنکشنل کمیٹی

اداروں پے ادارے بناتے جانا مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے، ہم اپنی تجاویز آپ کو بھیجیں گے جس پر مفصل رپورٹ کمیٹی میں پیش کریں، چیئرمین کمیٹی

پیر 25 اکتوبر 2021 23:35

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اکتوبر2021ء) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانی کو بتایاگیاہے کہ 28 ہزار گھروں کے لیے ہمیں 7 کروڑ روپے کابجٹ ملا ہے اوران میں سے 17 ہزار گھرصرف اسلام آباد میں ۔ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر کامل علی آغا کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں یوسی سلہڈ تحصیل اور ضلع ایبٹ آباد کے کچھ علاقوں میں فور جی سروسز کی عدم فراہمی کا معاملہ زیربحث آیا۔ پی ٹی اے حکام نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے لوگوں نے یو سی سلہد، ایبٹ آباد میں سروے کیا ہے اورصرف کچھ پہاڑی علاقوں میں مسائل ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹرکامل علی آغا نے کہا کہ سینیٹرطاہر بزنجو کے اس حوالے سے کچھ تحفظات موجود ہیں اس علاقے میں فور جی کس کمپنی کا ہے اسکی رپورٹ آپ نے ہمیں دینی ہے جس پر ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ وہ خود ان علاقوں کا دورہ کر کے معائنہ کریں گے۔

(جاری ہے)

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ ایک ہفتے میں پی ٹی اے سے اس معاملے کی رپورٹ طلب کر لیں۔وہاں کے لوگوں کوانٹرنیٹ کی سہولت ملنی چاہیے جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ 15 دن میں سروے کرکے رپورٹ کمیٹی کو دی جائے۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سرکاری گھروں کی مرمت اور وائٹ واش کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکام وزارت ہاؤسنگ نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ 28 ہزار گھروں کے لیے ہمیں 7 کروڑ روپے کابجٹ ملا ہے اوران میں سے 17 ہزار گھرصرف اسلام آباد میں ہیں۔

کراچی کمپنی کے قریب فلیٹس کی بہت ہی بری حالت ہے۔ تمام کیٹگریز کے گھروں کی ضروری مرمت کرائیں گے۔وزارت ہاؤسنگ حکام نے فنکشنل کمیٹی کوبتایا کہ مرمتی کاموں کیلئے 1.8 ارب کا پی سی ون بنا کربھیجا جو کہ منظور ہوچکا ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ ملٹی سٹوری فلیٹس کا بہت برا حال ہے۔سرکاری گھروں کی مرمتی کاموں کیلئے علیحدہ آرگنائزیشن بنا رہے ہیں۔

رکن کمیٹی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ اداروں میں سیاسی بھرتیاں ہیں گھوسٹ ملازمین ہیں جو کام پر آتے ہی نہیں اپنے کام میں شفافیت لائیں ای ٹینڈر پر جائیں۔انہوں نے کہا کہ نئے ادارے بنانے کے بجائے پہلے سے موجود اداروں کو فعال اور مزید بہتر کرایا جائے۔ سینیٹر ثانیہ نشتر نے زور دیا کہ نئے ادارے بنانے کے بجائے پہلے سے موجود سسٹم میں شفافیت لائی جائے۔

جس پرحکام نے بتایا کہ پی ڈبلیو ڈی کا ساراسسٹم بائیو میٹرک کر دیا ہے، سیلری سلپ بھی سنٹرل اکاونٹ میں آتی ہے۔شفافیت لانے کیلئے مزید اقدامات اٹھا رہے ہیں، ای۔ٹینڈرنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔حکام وزارت نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ پورے پاکستان کے سرکاری گھروں کیلئے صرف 7 کروڑ روپے ہیں۔وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ سرکاری افسران پالیسی میکر نہیں ہیں۔

ہمیں یہ باتیں وزیر سے کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے وفاقی وزیر ہاوسنگ و تعمیرات طارق بشیر چیمہ سے بات کریں گے۔ہاؤسنگ کی اتنی بڑی وزارت کیلئے 7 کروڑ روپے کا بجٹ مذاق ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کو شفافیت سے استعمال میں لایا جائے۔ادارے پر ادارہ بنانا درست نہیں، پہلے سے موجود اداروں کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ وزیرمملکت پارلیمانی امور نے مزید کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ آنے والے بجٹ میں ہاوسنگ کیلئے اضافی بجٹ مختص کریں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ اداروں پے ادارے بناتے جانا مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے، ہم اپنی تجاویز آپ کو بھیجیں گے جس پر مفصل رپورٹ کمیٹی میں پیش کریں۔جس پر وزارت حکام نے سرکاری گھروں کی مرمتی کام کے حوالے سے مفصل رپورٹ رواں ہفتے کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا اعادہ کیا۔ہائوسنگ ادارے کو کرپشن سے پاک کرنے، ڈیجیٹیلائز کرنے، سیاسی بھرتیاں ختم کرنے اور گھوسٹ نوکریاں ختم کرنے کے حوالے سے سینیٹر ثانیہ نشتر کی تجاویز سے وزیر مملکت علی محمدخان اور چیئرمین کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا نے اتفاق کیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی اپنی تجاویز وزیر برائے ہاوسنگ کو بھی بھیجیں گے امید ہے کہ وزیر صاحب ہماری تجاویز کو منظور کرلیں گے۔اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 2016 میں نوکریوں میں کوٹہ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم منظور کرانے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فنکشنل کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنے کیلئے کام شروع کردیا گیا ہے۔

سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے پر اٹارنی جنرل کی رائے بھی آچکی ہے، اب کمیٹی کی تجاویز اور رپورٹ کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ یہ چھوٹوں صوبوں کے فائدے کیلئے ہے اس میں مزید شفافیت ہونی چاہئے۔اس معاملے کے حل سے صوبوں کے تحفظات بھی ختم ہوجائیں گے۔اس کام پر پیش رفت تیز ہونی چاہیے، یہ پاکستان کا مسئلہ ہے، قوم کے اتحاد کا جزو ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے مزیدکہا کہ چاہتے ہیں کہ یہ کام آئینی طریقے سے ہی ہو تو بہتر ہے۔چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو اس معاملے کو جلد حل کرانے کے حوالے سے ہدایات جاری کر دیں۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد کے سیکٹر جی14/3میں الاٹیز کو گھر تعمیر کرنے کی اجازت بارے وزارت ہاوسنگ حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ ہاوسنگ منسٹری کے حکام نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ ستر فیصد علاقے پر قبضہ لے کر الاٹیز کو پلاٹ دینے کا عمل جاری ہے۔

تقریبا 44 گھر تعمیر ہو گئے ہیں۔گیارہ سو پلاٹ ہیں جن میں سے سات سو پلاٹ الاٹمنٹ کیلئے تیارہیں۔حکام نے بتایا کہ اس علاقے پرقبضہ مافیا موجود تھا جن سے پلاٹ خالی کرائے گئے ہیں، جھڑپیں بھی ہوئیں۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ اس معاملے کو اگلے میٹنگ کے ایجنڈے پر رکھ لیں، سرکاری ملازم کو کم سے کم قیمت پر پلاٹ ملنا چاہئیجس پرچیئرمین کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا نے وزارت حکام سے سیکٹر جی 14/3 کے حوالے سے مفصل رپورٹ اگلی میٹنگ میں طلب کر تے ہوئے کہا کہ اگلی میٹنگ میں کمیٹی کو بتائیں کہ کتنے پلاٹ خالی کرا چکے، کتنے پلاٹ پر قبضہ ہے اور جو لوگ پلاٹ کا قبضہ نہیں لے رہے اس کی کیا وجوہات ہیں۔

فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرثانیہ نشتر، سینیٹر ہمایون خان مہمند، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری ، سینیٹرمرزامحمد آفریدی کے علاوہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، وزارت ہاؤسنگ، پی ٹی اے ، سی ڈی اے اور اسٹبلشمنٹ ڈویڑن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments