بلدیہ عظمی کراچی اپنے آرٹسٹوں کے اشتراک سے کراچی کو خوبصورت بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی

میئر کراچی وسیم اختر کی مجسمہ ساز اور خطاط انجم ایاز کے بنائے ہوئے فن پاروں اور مجسموں کی نمائش کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت

جمعہ مئی 17:40

بلدیہ عظمی کراچی اپنے آرٹسٹوں کے اشتراک سے کراچی کو خوبصورت بنانے ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 مئی2019ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ماضی میں مرکز اسلامی میں شادی ہال بن چکے تھے ہم نے قبضہ ختم کرا کر اسلامی کلچر سینٹر کے طور پر قرآنی آیات کی نمائش سے اس کا افتتاح کر دیا ہے، کراچی دنیا کے صاف ستھرے اور خوبصورت شہروں میں سے ایک تھا ہماری کوشش ہے کہ اس کا وہی وقار بحال ہو، اس کوشش میں فنکاروں اور آرٹسٹوں کا اہم کردار ہے، بلدیہ عظمی کراچی اپنے آرٹسٹوں کے اشتراک سے کراچی کو خوبصورت بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیڈرل بی ایریا مرکز اسلامی میں معروف مجسمہ سازاور خطاط انجم ایاز کے بنائے ہوئے خطاطی کے فن پاروں اور مجسموں کی نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر چیئرمین باغات کمیٹی خرم فرحان، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سیکرٹری پروفیسر اعجاز فاروقی،سینئر ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ ریکریشن ریحان خان اور دیگر بھی موجود تھے، یہ نمائش تین روز تک بعدافطار جاری رہے گی نمائش میں انجم ایاز کے بنائے ہوئے خطاطی کے خوبصورت فن پارے اور مجسمے رکھے گئے ہیں جنہیں دیکھ کر شائقین نے زبر دست پسندیدگی کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

میئر کراچی وسیم ا ختر کا کہنا تھا کہ مرکز اسلامی کراچی کا کلچرل سینٹر تھا مگر بدقسمتی سے اس پر قبضہ رہا یہاں شادیاں ہوتی تھیں، اس نمائش کے ساتھ مرکز اسلامی کا بھی افتتاح اللہ کے با برکت نام سے کردیا ہے، اب یہ جگہ کراچی کے عوام کے لئے کھول دی گئی ہے یہاں نمائشیں،ورکشاپ اور سیمینار منعقد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انجم ایاز سمیت دیگر آرٹسٹوں کی خدمات کو شہر کی بہتری اور خوبصورتی کیلئے استعمال کریں گے، ہم کراچی کی دنیا کے سامنے خوبصورت شکل پیش کرنا چاہتے ہیں، ایک ترقی یافتہ ماڈرن شہر جیسا اس کا ماضی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پرانی عمارتیں جو ہمارا اثاثہ ہیں انہیں محفوظ کیا جائے، ہمارے نوجوان ایسی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لیں،ان کے لئے ان ثقافتی مراکز میں ثقافتی تربیتی پروگرام شروع کریں گے۔ انجم ایاز نے میئر کراچی وسیم اختر اور سینئر ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ ریکریشن ریحان خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلدیہ کے تعاون سے میں کراچی کے چوراہوں اور پارکوں میں نمائشیں کرنا چاہتا ہوں، شہر میں آرٹسٹوں کو جو قدر ومنزلت ملنی چاہیے تھی وہ نہیں مل سکی مگر مجھے اب امید ہے کہ میئر کراچی جس طرح عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں اسی طرح وہ فنکاروں سے بھی محبت رکھتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ بالخصوص اس شہر کے فنکاروں کو ایسے پلیٹ فارم مہیا کئے جائیں کہ جہاں وہ اپنے فن کا مظاہرہ کر سکیں اور دنیا کو یہ بتا سکیں کہ اس شہر میں بے پناہ صلاحیت رکھنے والے فنکار موجود ہیں، ضرورت صرف اور صرف انہیں آگے لانے اور سرپرستی کرنے کی ہے، شہر میں ایسے چوراہے اور مقامات ہونے چاہئیں جہاں مصوروں، مجسمہ سازوں اور خطاطوں کو کام کرنے کے لئے جگہ فراہم کی جائے اور آنے جانے والے لوگ آرٹ کی تخلیق ہوتے ہوئے خود دیکھ سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے فن پاروں کی نمائش دنیا کے 22 ملکوں میں ہوچکی ہے، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیدسیف الرحمن نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے ثقافتی اداروں کو بہتر بنانے کے لئے پر عزم ہے یہی وجہ ہے کہ فیضی رحمین آرٹ گیلری، مرکز اسلامی، فریئر ہال، خالق دینا ہال اور دیگر مقامات کو ایسی تقریبات کے لئے مختص کیا گیا ہے جس سے اس شہر کا خوبصورت اور اصل تاثر سامنے آسکے کہ یہ شہراپنے دامن میں سب کو جگہ دینے والا اور اپنی تہذیب و تمدن و تاریخی ورثے کا محافظ ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے فنکاروں سے پیار کرنے والا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں باصلاحیت فنکاروں کی کوئی کمی نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ایسے مواقع فراہم کئے جائیں کہ وہ اپنے فن پاروں کو دنیا کے سامنے پیش کرسکیں اور اپنے فن کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرسکیں، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی باصلاحیت فنکاروں کی ہر ممکن پذیرائی کرے گی اور ایسے مواقع فراہم کرے گی کہ بالخصوص اس شہر کے فنکاروں کو آگے آنے کا موقع مل سکے اور وہ اپنے فن کا اظہار بخوبی انداز میں کرسکیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments