کے ایم سی انتظامیہ کے ٹرائیکا نے ریٹائر اور وفات پاجانے والے ملازمین کو واجبات کے سلسلے میں ناجائز تنگ کرنا شروع کردیا

پورے مہینے میں 20 سے 25 ملازمین کو واجبات ادا کرنے کا فیصلہ، روزانہ کی بنیاد پر 55 سے 60 کیسز جمع ہورہے ہیں ملازمین کو سخت پریشانی کا سامنا کرواکر پنشن واجبات کو ڈی سینٹرلائز کرنے کے پروگرام کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے، سید ذوالفقار شاہ

اتوار جون 20:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جون2021ء) سجن یونین (سی بی ای) کے ایم سی کے مرکزی صدر سید ذوالفقار شاہ نے کہا ہے کہ کے ایم سی کا ٹرائیکا ایڈمنسٹریٹر، میٹروپولیٹن کمشنر اور فنانشل ایڈوائزر نے کے ایم سی، ڈی ایم سیز کے ریٹائر و وفات پاجانے والے ملازمین کے فنڈ، پنشن، گریجویٹی کے واجبات کے پورے مہینے میں صرف 20 سے 25 کیسز کلیئر کرنے کے فیصلے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر پنشن، گریجویٹی، فیملی پنشن، لیو انکیشمنٹ، فنانشل اسسٹنٹس، گروپ انشورنس کے جمع ہونے والے 55 سے 60 کیسز اور ماہانہ تقریباً 1600 سے زائد کیسز التواء کا شکار بن رہے ہیں۔

(جاری ہے)

جان بوجھ کر انتظامیہ اپنے پنشن، گریجویٹی کے نظام کو ڈی سینٹرلائز پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ریٹائر اور فیملی پنشنرز کو بے جا پریشان کیا جارہا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے ایک بار پھر ڈی ایم سیز کوپنشن کیسز یکم جولائی سے کے ایم سی کو روانہ نہ کرنے کا خط بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائر اور فیملی پنشنرز کسی وقت بھی انتہائی قدم اٹھاسکتے ہیں جس میں خودسوزی کا انتہائی قدم بھی کوئی پریشان حال پنشنرز میں سے کوئی پنشنر اٹھا سکتا ہے جس کی ذمہ داری کے ایم سی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments