مہاجر نوجوان کو عدالت کے دروازے پر قتل کیا، اس بعد ماوں، بہنوں اور بزرگوں نے احتجاج کیا تو ان پر طاقت کا بدترین استعمال کیا گیا،عامر خان

ایم کیوایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان کی ٹنڈوالہیارمیں شہید ہونے والے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن خلیل الرحمن خانزادہ کے سوئم میں شرکت

اتوار 23 جنوری 2022 22:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جنوری2022ء) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے دو روز قبل ٹنڈوالہیارمیں شہید ہونے والے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن خلیل الرحمن خانزادہ کے سوئم میں شرکت۔عامر خان نے میڈیا نمائندہ گان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل ٹنڈوالہیار شہرکے احاطہ عدالت میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن کو انسپکٹر شمس کھوکھر اور دیگر اہلکاروں کی موجودگی میں ایک مظلوم مہاجر نوجوان کو عدالت کے دروازے پر قتل کر دیا گیا اس قتل کے بعد ماوں، بہنوں اور بزرگوں نے احتجاج کیا، اس احتجاج پر طاقت کا بدترین استعمال کیا گیا اورپر امن احتجاج کو کچل کر فسطائیت کی بد ترین مثال قائم کی گئی اس واقعے کو ہم قطعی طور پر کوئی لسانی شکل نہیں دینا چاہتے، لسانیت کا مظاہرہ تو یہ حکومت اور سندھ پولیس خود کر رہی ہے،ہم کوئی سندھی مہاجر جھگڑ ا نہیں چاہتے ہیں مگر ہم کیا کریں کہ جب سندھ پولیس ایک فریق پر مظالم میں ساتھ دیتی ہے جس طرح سے مقتول کی بہنوں اور بچیوں پر لاٹھی چارج کیا گیا اس سے کشمیر اور فلسطین کے مظالم کو شرما دیاچادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیاانکو شرم آنی چاہیے کہ یہ عورتوں پر لاٹھیاں برسا رہے ہیں اس ظالم حکومت کی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے،ماضی میں پکا قلعہ میں خواتین قرآن سروں پر لیکر نکلیں تو ان پر بھی گولیاں برسائیں گئیں، کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھی مہاجر تفریق پیپلزپارٹی نے پیدا کی تھی نام نہاد اکثریت کی بنیاد پر لسانی بل پاس کروا کر تفریق آپ نے پیدا کی تھی آپ ہم پر لسانیت کا الزام لگاتے ہیں ہم تو صرف اپنا جائز حق مانگتے ہیں آپ ہمارے ساتھ حق مانگنے پر ظلم اور زیادتیاں کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں سندھ کی اس بد عنوان اور نسل پرست حکومت کو باور کرواتا ہوں کہ ہم نہیں جھکیں گے اس واقعہ کے بعد پورے سندھ کے مہاجروں میں شدید تشویش ہے رابطہ کمیٹی، ارکان اسمبلی اپنے لوگوں کے ساتھ یہاں کھڑے ہیں ہم ٹنڈوالہیار کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آواز اٹھائیں گے۔عامر خان نے کہا کہ خلیل الرحمن باہمت اور بہادر انسان تھاخلیل نے خود اپنے آپکو اس جھوٹے مقدمے میں کورٹ میں پیش کر دیا تھااس پورے واقعے میں سازش ہوئی ہے اس واقعے میں پولیس اور یہاں کا ایس ایچ او اور ایس ایس پی ملوث ہیں،حکومت، پولیس اور پوری انتظامیہ اس واقعے میں جانبدار ہے چار دن پہلے قاتلوں نے عدالت میں خلیل الرحمن سے جھگڑا کیا اور اسے مارا پیٹا اوراس واقعہ کے بعد خلیل نے سیکیورٹی کا مطالبہ کیا مگر اسے سیکیورٹی نہیں دی گئی اس کیس میں دیگر مفرور ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں انہیں گرفتار نہیں کیا جارہاقاتل پولیس کی حراست میں شاہانہ انداز میں سیلفیاں بنوا رہا ہے قاتل کو شاہانہ پروٹوکول ملا ہوا ہے اور اسے لوگ پھولوں کے گلدستے پیش کر رہے ہیں کیا کوئی مہاجر گرفتار ہوتا تو اسکو اتنا پروٹوکول ملتا راتوں کو دروازے توڑ کر چھوٹے بچوں کو گرفتار کیا گیا ہے خواتین کا زیور چھین کر لے گئے لوٹ مار کی گئی یہ نا انصافیاں اور ظلم سندھ حکومت کر رہی ہے نفرت کے یہ بیج سندھ حکومت بو رہی ہے میں وزیراعلی سندھ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ٹنڈوالہیار کے ایس ایس پی کو معطل کرکے ضلع بدر کیا جائے اوراس پورے واقعے کی تحقیقات کسی دوسرے ایماندار آفیسر سے کروائی جائے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments