ّ حکومت،آئی ایم ایف کی فرمائش پرمہنگائی اورظالمانہ ٹیکسز کے نفاذ سے باز رہی:الطاف شکور

ٰ حکومت آزاد جموں کشمیر میں جاری بدامنی سے سبق سیکھے، غیر منطقی معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے نئے ڈیم، آبی ذخائر اور نہروں کا جال، لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنا سکتے ہیں ٌکراچی کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرکے حاصل ہونے والی آمدنی کو آسانی سے دوگنا کیا جا سکتا ہے

اتوار 12 مئی 2024 22:00

۵کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 مئی2024ء) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکریٹری اقبال ہاشمی نے کہاہے کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر میں جاری بدامنی سے سبق سیکھے۔ توانائی کے نرخوں میں اضافے، اشیائے خوردونوش کی مہنگائی اور ٹیکس لگانے کی اندھی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ ورنہ غریب عوام کا احتجاج جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل جائے گا۔

عوام پہلے ہی حکومت کے پیٹرول، بجلی و گیس کے ناقابل برداشت نرخوں، قیمتوں میں اضافے اور زائد ٹیکسوں سے تنگ آچکے ہیں۔ مہنگائی کے مارے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت سبق سیکھے اور اپنی غیر منطقی معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ غیر ملکی قرضوں نے کبھی بھی کسی قوم کے معاشی مسائل حل نہیں کیے۔

(جاری ہے)

ہمارا ملک قرضوں کے جال کی نصابی مثال ہے لیکن حکومت اپناقبلہ درست کرنے کو تیار نہیں۔

ملک میں خوراک کی مہنگائی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ لوگ گندم کے آٹے اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ملک میں غربت اور بھوک بڑھ رہی ہے اورمہنگائیو بے روزگاری اس کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ حکومت اس بات سے بے خبر ہے کہ ان مسائل سے کیسے نمٹا جائے اور غریب عوام کو سانس لینے کی جگہ کیسے دی جائے۔حکمرانوں کے پاس صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے توانائی کے ٹیرف، بینک سود کی شرح اور ٹیکس میں اضافہ۔

یہ اقدامات کبھی بھی بنیادی مسئلے کو حل نہیں کر سکتے جب تک کہ ان کے ساتھ پیداوار میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، خوراک کی قیمتوں میں کمی نہ ہو۔الطاف شکور نے کہا کہ زراعت اور آبپاشی کے شعبے ایسے شعبے ہیں جو ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ نئے ڈیم، آبی ذخائر اور نہروں کا جال، لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنا سکتے ہیں۔ ڈرپ ایریگیشن اور نمکین پانی کی کاشتکاری کے ذریعے بنجر علاقوں کو سرسبز و شاداب میدانوں میں تبدیل کیا جا سکتاہے۔

اس سب کے لئے حکومت کی جانب سے مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور تکنیکی تربیت کے نظام کو بہتر بناکر بہت بڑی تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کی جا سکتی ہے جسے غیر ضروری زرمبادلہ کمانے کے لیے دوسرے ملکوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت کراچی کی ترقی کے لئے مطلوبہ سہولیات فراہم کرے تو کراچی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو آسانی سے دوگنا کیا جا سکتا ہے۔

شہر قائد کو تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، پبلک ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور ایکسپریس ویز، بندرگاہوں اور صنعتی اسٹیٹس کی حقیقی شہری سہولیات کی ضرورت ہے۔ کراچی سے بھی چھوٹے بہت سے شہر انڈر گراؤنڈ ریلوے سسٹم سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن ہمارا شہر آج بھی چنگچی رکشوں پر انحصار کرتا ہے۔ کراچی شہرکی خام افرادی قوت کو تربیت دینے کے لیے نئی تکنیکی یونیورسٹیوں اور کالجوں کی ضرورت ہے۔

کراچی میں شائع ہونے والی مزید خبریں