اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال‘ پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں شعبہ بیرونی ..

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال‘ پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں شعبہ بیرونی مریضاں دوسرے روز بھی بند رہے، صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا‘ درجنوں آپریشن رک گئے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 3جنوری2013ء) پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث شعبہ بیرونی مریضاں( آؤٹ ڈور) جمعرات کو دوسرے روز بھی بدستور بند رہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے گوجرانوالہ میں سینئر ڈاکٹروں پر تشدد میں ملوث ینگ ڈاکٹرز کی گرفتاری کے خلاف سروسز بند کی ہوئی ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر لازمی سروس ایکٹ نافذ کردی گئی ہے۔

لازمی سروس ایکٹ کے تحت تمام ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی ڈیوٹی پر حاضری لازمی ہوگی۔ بدھ کو یہاں گوجرانوالہ میں ینگ ڈاکٹرز کے گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ایم ایس پر تشدد کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا گیا تھا ، ینگ ڈاکٹرز کی گرفتاری کیخلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے صوبہ بھر میں آؤٹ ڈور سروسز معطل کردی ہے۔

(خبر جاری ہے)

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق گرفتار ینگ ڈاکٹرز کی رہائی تک آؤٹ ڈور بند رہیں گے۔ لاہور سمیت پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے آؤٹ ڈور سروس کی بندش کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے ہزاروں مریض کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث میو اسپتال، سروسزاسپتال، گنگا رام اسپتال، جناح اسپتال، میاں منشی اسپتال، نواز شریف اسپتال، جنرل اسپتال کے ہزاروں مریض پریشان رہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے گوجرانوالہ میں سینئر ڈاکٹروں پر تشدد میں ملوث ینگ ڈاکٹروں کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ وائی ڈی اے کے ترجمان کی مطابق سینئر ڈاکٹروں کے تشدد میں ملوث گرفتار ینگ ڈاکٹرز کو جب تک رہا نہیں کیا جاتا سرکاری اسپتالوں میں آؤٹ ڈور سروس بند رکھی جائے گی۔ دوسری طرف محکمہ صحت پنجاب کی مطابق سینئر ڈاکٹروں پر تشدد میں ملوث ینگ ڈاکٹروں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

دوسری طرف گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں سینئر ڈاکٹرز نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کام شروع کردیا۔ محکمہ صحت نے کہا ہے کہ سینئر ڈاکٹروں پر تشدد میں ملوث ینگ ڈاکٹروں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ تشدد میں ملوث ڈاکٹروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق صوبے بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں لازمی سروسز ایکٹ فوری طور پر نافذ کردیا گیا ہے۔

لازمی سروسز ایکٹ کے تحت تمام ڈاکٹرز ، نرسوں اورپیرامیڈیکل سٹاف کی ڈیوٹی پر حاضری لازمی ہوگی۔ ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے والے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے خلاف ملازمت سے برطرفی کے قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ ترجمان کے مطابق سیکرٹری صحت پنجاب نے تمام ٹیچنگ ، ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کے پرنسپل اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے کی جانے والی ہڑتال کے باعث صوبے بھر کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث گوجرانوالہ میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں