قوم کو وزیراعظم عمران خان کی شفاف قیادت پر پورا اعتماد ہے:سردار عثمان بزدار

اپوزیشن اپنے جال میں خود پھنس چکی ہے،22 کروڑپاکستانی سرٹیفائیڈلٹیروں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے،وزیراعلی پنجاب

ہفتہ دسمبر 17:50

قوم کو وزیراعظم عمران خان کی شفاف قیادت پر پورا اعتماد ہے:سردار عثمان ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 دسمبر2020ء،نمائندہ خصوصی،طارق مجید کھوکھر) وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے آج وزیراعلیٰ آفس میں معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ملاقات کی۔وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے حکومت کی کارکردگی اورفلاح عامہ کے منصوبوں کو موثر انداز سے اجاگر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے شرانگیز بیانیے کا بھر پور جواب دیا جائے ۔

عوام کو ریلیف دینے اور گڈ گورننس کیلئے کیے گئے اقدامات کو بہترین طریقے سے عوام کے سامنے لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ 2برس کے دوران وہ کام کئے جو سابقہ حکومتیں برس ہا برس نہ کر سکیں-صوبے میں ون مین شو کاخاتمہ کیا ہے۔ہر کام مشاورت سے اورایک ٹیم کے طورپر کام کررہے ہیں۔حکومت کے بروقت فیصلوں سے آٹے اورچینی کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے اور پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں20کلو آٹے کا تھیلا مقررکردہ نرخوں پر دستیاب ہے اورسہولت بازاروں میں چینی 81روپے میں مل رہی ہے۔

(جاری ہے)

ہمارا مقصد عوام کو ریلیف دینا اوران کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے ۔عوام کے حقوق پرکسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دوں گا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا پاکستان مخالف بیانیہ پٹ چکا ہے-پی ڈی ایم کا ٹولہ جلسوں کے ذریعے کورونا پھیلارہا ہے۔عوام کے مسترد شدہ عناصر کے دلوں میں دکھی انسانیت کیلئے رتی بھر درد نہیں۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت کے عوامی فلاح کے کاموں کو بہترین طریقے سے اجاگرکرنے کیلئے حکمت عملی بنالی ہے ۔

پی ڈی ایم کے سیاسی یتیم پہلے بھی ناکام رہے اورآئندہ بھی ناکام رہیں گے۔ اپوزیشن عناصر ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہیں۔ اقتدار کی ہوس میں مبتلا ٹولے کی آنکھوں پر کالی پٹی بند چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سیاہ کاراپنی کرپشن کے کالے کرتوت پر پردہ ڈالنے کیلئے پاکستان کی ترقی کو سیاہ کرنا چاہتے ہیں۔قوم کو وزیراعظم عمران خان کی شفاف قیادت پر پورا اعتماد ہے۔اپوزیشن اپنے جال میں خود پھنس چکی ہے۔22 کروڑ پاکستانی سرٹیفائیڈلٹیروں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments