لڑکی کو مردہ حالت میں اسپتال چھوڑنے کا معاملہ، لڑکی کو زہر دئیے جانے کا شبہ

لڑکی نے مردانہ کپڑے پہن رکھے تھے جس سے معاملہ مشکوک لگا، اسپتال کے ڈاکٹر کا بیان

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جنوری 17:11

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 27 جنوری2021ء) لاہور کے استپال میں مردہ حالت میں لائی گئی لڑکی کے کیس میں روز نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔پولیس اب تک اس کیس میں 5 گرفتاریاں کر چکی ہے۔منگل کے روز لڑکی کو اسپتال پہنچانے والے ملزم سمیت دو نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔جس میں سے ایک ملزم کی شناخت اویس کے نام سے ہوئی۔پولیس نے اسقاط حمل کرنے والی خاتون سمیت دو افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

گرفتار کیے گیے ملزمان سے بیانات ریکارڈ کروا لیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق لڑکی نے اسقاط حمل کسی اور ضلع میں کروایا تھا لیکن طبعیت بگڑنے پر لاہور لایا گیا۔سینئر ڈاکٹر کے مطابق لڑلی کو نامعلوم نوجوان بے ہوشی کی حالت میں ایمرجنسی لایا تھا اور ڈیوٹی ڈاکٹر کے پوچھنے پر بتایا کہ وہ لڑکی کا قریبی رشتہ دار ہے۔

(جاری ہے)

پولیس کسی اور سلسلے میں اسپتال کے اندر موجود تھی۔

لڑکی نے مردانہ کپڑے پہن رکھے تھے جس کی وجہ سے اسپتال کے عملے اور پولیس اہلکاروں کی توجہ اس جانب گئی۔ہولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ لڑکی حاملہ تھی اور پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں اسے زہر تو نہیں دیا گیا۔واضح رہے کہ ایک نوجوان لڑکا ایک لڑکی کی لاش کو اسپتال چھوڑ کر بھاگ گیا تھا، ملزم کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج سے کی گئی گرفتار ملزم اسامہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔

اسامہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ مریم اور میں کئی سالوں سے دوست تھے ،اسقاط حمل کے دوران لڑکی کی طبعیت بگڑ گئی۔ مریم کی طبعیت بگڑنے پر اسپتال لائے تو دم توڑ چکی تھی۔ڈر کے باعث لاش اسپتال میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔گرفتار ملزم نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کا الزام بھی مسترد کر دیا ہے۔اسامہ کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ میں سب سامنے آ جائے گا۔ایس ایچ او نواب ٹاؤن چوہدری اسد نے کہا ہے کہ زیادتی سمیت تمام پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments