2015 کی طرح 2016 میں بھی تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی اولین ترجیح رہے گی، دہشت گردی ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے رجحانات کے خاتمے کیلئے علم انتہائی موثر ہتھیار ہے، نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں،پنجاب کے تعلیمی پروگرام میں پاکستان کی تمام اکائیوں کو شامل کر کے قومی وحدت کو فروغ دیا ہے ،پائیدار ترقی کا واحد راستہ ہے،فروغ تعلیم کیلئے وسائل اخراجات نہیں ،ملک کے روشن مستقبل پر سودمند سرمایہ کاری ہے

وزیراعلیٰ پنجاب کی اراکین اسمبلی سے ملاقات میں گفتگو

جمعہ جنوری 22:47

لاہو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2015 کی طرح 2016 میں بھی تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی اولین ترجیح رہے گی۔ عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کیلئے وسائل کی کوئی کمی نہ پہلے آنے دی اور نہ اب آنے دیں گے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی پر اربوں روپے کے وسائل فراہم کئے ہیں۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے آج یہاں ان سے ملاقات کی ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اورصحت کے شعبوں کی پائیدار بنیادوں پر ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اوراس مقصد کیلئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اور تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی نوعیت کی اصلاحات کی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

اصلاحاتی پروگرام کے تحت سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔اساتذہ اورطلباء کی حاضری یقینی بنانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل اورقیمتی سرمایہ ہیں ۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے تعلیمی شعبہ میں پنجاب حکومت کے انقلابی اقدامات بارآور ثابت ہوئے ہیں۔ دہشت گردی ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے رجحانات کے خاتمے کیلئے علم نہ صرف انتہائی موثر ہتھیار ہے بلکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد راستہ ہے۔

تعلیم کے فروغ کیلئے فراہم کئے جانیوالے وسائل اخراجات نہیں بلکہ ملک کے روشن مستقبل پر سودمند سرمایہ کاری ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ،دانش سکول سسٹم،ذہین طلباء و طالبات کو وظائف کی فراہمی، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تعلیمی پروگرام اورپوزیشن ہولڈرزکے بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے مطالعاتی دورے حکومت پنجاب کے ایسے انقلابی اقدامات ہیں جن سے تعلیم کے شعبے پرانتہائی مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

حکومت کے ان تعلیمی پروگراموں کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ ان پروگراموں میں نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ، بلوچستان ،،خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان ،آزادکشمیر،فاٹا اور فیڈرل بورڈ کے ہونہارمستحق طلباء و طالبات کو بھی شامل کیا گیا ہے ، جس سے بھائی چارے، قومی وحدت اور یگانگت کو فروغ مل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ اوردانش سکول سسٹم سے غریب ترین خاندانوں کے ہونہار بچے اوربچیاں اپنی تعلیمی پیاس بجھا رہی ہیں ۔

ان پروگراموں کے ذریعے خاک آلود گلیوں کے بچوں پر معیاری تعلیم کے دروازے کھلے ہیں۔پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد طلباء و طالبات ملکی و غیر ملکی تعلیمی اداروں میں جدید علوم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کی طرح صحت کا شعبہ بھی حکومت کی سرفہرست ترجیحات میں شامل ہے اورعوام کومعیاری طبی سہولتیں ان کی دہلیز پر پہنچانے کیلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔

صوبے بھر میں جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتال بنائے جارہے ہیں۔تحصیل و ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں اور دیہی و بنیادی مراکز صحت میں طبی سہولتوں کو بہتر بنایا جارہا ہے ۔ صوبائی دارلحکومت میں سٹیٹ آف دی آرٹ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ و ریسرچ سینٹرکے قیام کے منصوبے پر تیزرفتاری سے کام جار ی ہے جبکہ بیدیاں روڈ پر 60 بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال کا افتتاح کیا گیا ہے، اسی طرح مظفرگڑھ میں سٹیٹ آف دی آرٹ رجب طیب اردگان ہسپتال میں جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولتیں مل رہی ہیں ۔

اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے پنجاب کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے زبردست اقدامات کرنے پر وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے بڑے منصوبوں سے صوبے بھر کے عوام مستفید ہورہے ہیں ۔صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بہتری کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب نے بے مثال اقدامات اٹھائے ہیں ۔حکومت کی شفاف اورمیرٹ کی پالیسی کی بدولت اداروں کی کارکردگی میں بہتری آرہی ہے ۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں اراکین قومی اسمبلی محمد جنید انوار چوہدری، رانا محمد اسحاق، اراکین صوبائی اسمبلی امجد علی جاوید، میاں رفیق اور کرنل (ر) ایوب گادھی شامل تھے۔ ایم پی اے منشاء اﷲ بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments