اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںنواز شریف اگر الیکشن کے اگلے روزہمارے پاس آ جاتے تو آج ملک کے صدر ہوتے، ..

نواز شریف اگر الیکشن کے اگلے روزہمارے پاس آ جاتے تو آج ملک کے صدر ہوتے، شجاعت حسیین

لاہور (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین11جنوری2009 ) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر ہم نے ہمیشہ آزادیٴ صحافت کو سربلند رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مسلم لیگوں کا اتحاد صرف برابری کی بنیاد پر ممکن ہے۔ وہ گزشتہ روز اپنی اور چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانہ سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر مشاہد حسین سید‘ ایس ایم ظفر‘ کامل علی آغا‘ ڈاکٹر خالد رانجھا‘ مونس الٰہی اور مسلم لیگ کے دیگر ممتاز رہنما بھی موجود تھے۔ سی پی این ای کے صدر عارف نظامی اور جنرل سیکرٹری خوشنود علی خان نے بھی اظہار خیال کیا۔ ظہرانہ میں اخبارات کے ایڈیٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

(خبر جاری ہے)

چودھری شجاعت حسین نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے تمام جماعتوں میں اتحاد و تعاون چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر بات کریں۔

جہاں تک مسلم لیگوں میں اتحاد کی بات ہے اس کیلئے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ یہ اتحاد برابری کی بنیاد پر ہو سکتا ہے اور اس کا مقصد ملک و قوم کی خدمت ہونا چاہئے کسی حکومت کو بچانا یا گرانا نہیں۔ میاں نواز شریف اگر الیکشن کے اگلے روز آ جاتے تو آج ملک کے صدر ہوتے۔
اتحاد کیلئے مثبت سوچ اور رویہ ضروری ہے۔ ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہم نے ہمیشہ قومی و ملکی مفاد کو ترجیح دی ہے۔

سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے آزادی صحافت کیلئے چودھری ظہور الٰہی اور ان کے بعد چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ صحافیوں سے تعاون کیا ہے اور اپنے اقتدار کے دنوں میں بھی ان تک باآسانی رسائی ممکن تھی۔ انہوں نے مسلم لیگوں کے اتحاد کو ملکی مفاد میں بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں دو جماعتی نظام کی راہ ہموار ہو گی لیکن یہ اتحاد برابری کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے۔

سی پی این ای کے جنرل سیکرٹری خوشنود علی خان نے کہا کہ آزادی صحافت اور صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کا رویہ ہمیشہ مثبت اور تعمیری رہا ہے جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والوں نے گزشتہ روز اخبارات اور نیوز ایجنسیوں کیلئے نئے آرڈیننس کے نام پر ایک ایسا کالا قانون نافذ کر دیا ہے جو ایوب خاں جیسے آمر کے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس سے بھی زیادہ غیر جمہوری اور آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ ہم اس قانون کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اس کو منسوخ کروانے کیلئے بھرپور جدوجہد کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں