اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںپاکستان مسلم لیگ کے معاملات میں پرویز الٰہی کی بے جا مداخلت کو روکنا ..

پاکستان مسلم لیگ کے معاملات میں پرویز الٰہی کی بے جا مداخلت کو روکنا از حد ضروری ہو گیا ہے ،حامد ناصر چٹھہ

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جنوری۔2008ء) لاہور (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری حامد ناصر چٹھہ نے کہا ہے کہ (ن) لیگ میں ضم ہونے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن دونوں جماعتوں میں اتحاد کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں‘ چوہدری شجاعت حسین اتحاد میں رکاوٹ نہیں لیکن پرویز الٰہی کی سرگرمیوں کو پنجاب تک محدود نہ کیا گیا تو پارٹی میں انتشار پھیلے گا۔

گزشتہ روز مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری حامد ناصر چٹھہ نے کہا کہ سینیٹر سلیم سیف اللہ کی میاں نواز شریف سے ملاقات پر کسی کو بھی تنقید نہیں کرنی چاہیے وہ ملاقات کے بعد چوہدری شجاعت حسین سے بھی ملے تھے اور انہیں اس بارے میں آگاہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور (ق) میں اتحاد کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن پارٹی قیادت کا فیصلہ ہے کہ اپنے تشخص کو ہر صورت برقرار رکھا جائیگا اس لئے (ن) لیگ میں ضم ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر کچھ لوگ (ن) اور (ق) لیگ میں اتحاد کیلئے کوششیں کر رہے ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اتحاد سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔اسلام آباد میں اپنی رہا ئش گا ہ پر صحا فیوں سے گفتگو کر تے ہوئے حا مد ناصر چٹھہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے معاملات میں پنجاب کی صوبائی قیادت اور بالخصوص چوہدری پرویز الٰہی کی بے جا مداخلت کو اب روکنا از حد ضروری ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ میں اتحاد کے قیام اور اس کو جمہوری طریقوں سے چلانے کیلئے ہم نے بہت سی تجاویز چوہدری شجاعت حسین کو دی ہیں اور وہ بار بار یقین دہانی کراتے ہیں کہ پارٹی کو جمہوری اصولوں اور طریقوں سے چلائیں گے۔ مگر ہفتوں گزرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی بلکہ صورتحال مزید غیر جمہوری ہوتی جا رہی ہے۔ حامد ناصر چٹھہ نے کہا کہ سینیٹر سلیم سیف اللہ کی حالیہ سیاسی ملاقاتوں کے بارے میں بعض مسلم لیگی جس انداز سے تنقید کر رہے ہیں وہ بھی نا پسندیدہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر قیادت نے صورتحال کی اصلاح کیلئے فوری نوٹس نہ لیا اور چوہدری پرویز الٰہی کی سرگرمیوں کو پنجاب تک محدود نہ کیا گیا تو مسلم لیگ انتشار کا شکار ہو سکتی ہے جبکہ اس وقت ضرورت یہ ہے کہ مسلم لیگ کو خاندانی نہیں بلکہ ایک مکمل جمہوری سیاسی جماعت کے طور پر ملک میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیئے۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں