انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ نے بی ایس سی آنر ز میڈیکل لیب ٹیکنالوجی 2020-21 میں داخلوں کا شیڈول جاری کردیا

منگل اکتوبر 17:29

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اکتوبر2020ء) انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ نے بی ایس سی آنرز میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی(چار سالہ)کورس سال 2020-21 کے داخلوں کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔ تمام داخلے خالص میرٹ کی بنیاد پر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور اور محکمہ صحت پنجاب کے قوانین اور پالیسی کی بنیاد پر ہوں گے۔ڈین انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے بتایا کہ مذکورہ کورس میں داخلہ لینے کیلئے درخواست فارم مبلغ 500 روپے کے عوض دفتری اوقات میں انسٹیٹیوٹ کے آفس سے حاصل کئے جا سکتے ہیں اور مکمل دستاویزات کے ساتھ 10 نومبر تک صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک جمع کرائے جا سکتے ہیں ۔

ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے مزید بتایا کہB.Scآنرز میڈیکل لیب ٹیکنالوجی میں داخلہ کیلئے امیدواروں کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے ایف ایس سی پری میڈیکل یا متعلقہ ٹیکنالوجی میں ایف ایس سی 50% نمبروں کے ساتھ پاس ہونا ضروری ہے۔

(جاری ہے)

داخلہ میرٹ کی بنیاد پر سرکاری کمیٹی کرے گی جو پنجاب کی اساس پر ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ داخلہ فیس سال کے حساب سے 32000 روپے وصول کی جائے گی اور یونیورسٹی کی رجسٹریشن فیس اور امتحانی اخراجات وغیرہ UHS کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق وصول کئے جائیں گے۔

درخواست فارم کے ساتھ ایف ایس سی پری میڈیکل یا مساوی سرٹیفکیٹ کی تصدیق شدہ نقول، چھ عدد پاسپورٹ سائز تصدیق شدہ تصویر، domicile، امیدوار اور اس کے والد کے قومی شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی منسلک ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے کہا کہ انٹری ٹیسٹ کے اہل امیدواروں کی لسٹ 18 نومبر 2020 کو آویزاں کی جائے گی جبکہ انٹری ٹیسٹ 23 نومبر کو ہوگا۔

انٹرویو کے اہل امیدواروں کی لسٹ 28.11.2020 کو لگائی جائے گی اور انٹرویو 30 نومبر 2020 کو صبح 9 بجے انسٹیٹیوٹ میں لئے جائیںگے اس سلسلہ میں اخبارات میں اشتہار بھی شائع کرایا گیا ہے۔ ڈین انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کا کہنا تھا کہ IPH گورنمنٹ سیکٹر میں پبلک ہیلتھ کی تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور اس ادارے سے فارغ التحصیل صحت عامہ کے ماہرین پاکستان کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی انسانیت کی خدمات کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments