وزیراعلی خیبرپختونخوا کی زیرصدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا اجلاس

اگلے ایک سال کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت صوبے میں شروع کئے جانے والے مختلف منصوبوں کیلئے ایکشن پلان کی منظوری پلان کے تحت اگلے سال مختلف محکموں کے تحت فراہم کی جانے والی عوامی خدمات بشمول ڈومیسائل سر ٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس ، گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسلحہ لائسنس ، برتھ سر ٹیفکیٹ ،واٹر کنکشنز وغیرہ کو ڈیجٹیلائز کیا جائے گا،ان خدمات کی فراہمی کی ڈیجٹلائزیشن مکمل ہونے کے بعد یہ ساری خدمات انفارمیشن ٹیکنالوجی بوڈ کے تحت قائم سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز میں ایک ہی چھت تلے فراہم ہوں گی اور شہریوں کو ان خدمات کے حصول کیلئے الگ الگ دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے،بریفنگ

بدھ نومبر 20:50

وزیراعلی خیبرپختونخوا کی زیرصدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا اجلاس
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 نومبر2020ء) خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا ایک اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اگلے ایک سال کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت صوبے میں شروع کئے جانے والے مختلف منصوبوں کیلئے ایکشن پلان کی منظوری دے دی گئی ۔ اس ایک سالہ پلان کے تحت اگلے سال مختلف محکموں کے تحت فراہم کی جانے والی عوامی خدمات بشمول ڈومیسائل سر ٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس ، گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسلحہ لائسنس ، برتھ سر ٹیفکیٹ ،واٹر کنکشنز وغیرہ کو ڈیجٹیلائز کیا جائے گا۔

ان خدمات کی فراہمی کی ڈیجٹلائزیشن مکمل ہونے کے بعد یہ ساری خدمات انفارمیشن ٹیکنالوجی بوڈ کے تحت قائم سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز میں ایک ہی چھت تلے فراہم ہوں گی اور شہریوں کو ان خدمات کے حصول کیلئے الگ الگ دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے ۔

(جاری ہے)

ایکشنپلان کے مطابق صوبائی حکومت کے پیپر لیس منصوبے کے تحت سرکاری محکموں میں ای۔ آفس سسٹم کے اجراء پرکا م شروع کیا جائے گاجس کا اجراء وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ابتدائی طور پر تمام محکموں میں سمریاں ارسال کرنے کے نظام کو آن لائن کرنے کیلئے ای۔سمری سسٹم متعارف کروایا جائے گا۔ علاوہ ازیں عوام کی سہولت کی خاطر تمام سرکاری محکموں کے موبائل اپیلکشنز کو یکجا کرنے کیلئے ایک سپر ُ ایپ بھی متعارف کروایا جائے گا۔اسی طرح تمام سرکاری محکموں کے ڈیٹا تک عوام کی آسان رسائی کیلئے ایک آن لائن مرکزی ڈیٹا سنٹر بھی متعارف کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء الله بنگش، ، معاون خصوصی برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن غزن جمال اور معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے علاوہ ، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ، منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اس ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز مقرر کر نے اور دیئے گئے ٹائم لائنز کے مطابق منصوبے پر عملی پیشرفت کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر اور بہتر استعمال کے ذریعے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور نوجوانوں کو روزگارکے مواقع کی فراہمی کیلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات اُٹھائے جائیں ، حکومت اس سلسلے میں تمام درکار وسائل فراہم کرے گی ۔

موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کادور قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے ذریعے سرکاری محکموں کی استعداد کار کو بہتر بنانا اور سرکاری اُمور میں شفافیت کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات کا حصہ ہے جس کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اُٹھانا ہوںگے۔

صوبائی حکومت کے تمام سرکاری محکموں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اُمور کا ایک مرکزی نظام متعارف کروانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ان محکموں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اُمور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت یکجا کرنے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ زمینوں کے انتقالات میں شفافیت کو یقینی بنانے اور شہریوں کی سہولت کے لئے انتقالات کے نظام کو ایک مرکزی آن لائن نظام کے تحت یکجا کرنے اور ا س سلسلے میں بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ عملے کی ضروری تربیت کیلئے دس دنوں کے اند ر قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں ۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت شروع کر دہ پروگرام دُرشل کو ضم شدہ اضلاع تک توسیع دینے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی ۔ سرکاری محکموں کے آن لائن ریکارڈ اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سائبر ایمرجنسی ریسپانس سنٹر کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے فوری طورپر اس سلسلے میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments