بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ، ہرنائی وولن مل کو فعال کرنے اور زیارت کراس سے کچھ ہرنائی شاہراہ کا ٹینڈر کرنے کی قراردادیں منظور

ہفتہ جنوری 23:53

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2019ء) بلوچستان اسمبلی نے ہرنائی وولن مل کو فعال کرنے اور زیارت کراس سے کچھ ہرنائی اور ہرنائی تاسنجاوی شاہراہ کو جلد سے جلد ٹینڈر کرنے کے ساتھ شاہراہ کی تعمیر کا کام شروع کرنے سے متعلق دو قراردادیں منظور کر لی ہیں۔ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہو ا۔

اجلاس میں نو منتخب رکن قادر نائل کی حلف برداری کے بعد صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئر نگ وواسا حاجی نور محمد دمڑ نے اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہرنائی وولن مل ایک طویل عرصے سے غیر فعال اور بند پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بیروزگاری میںا ضافہ ہو گیا ہے جس سے ان میں احسا س محرومی اور مایوسی پائی جاتی ہے لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ ہرنائی وولن مل کو فعال کرنے کو یقینی بنائے تاکہ نہ صرف صوبے کی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے بلکہ مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرکے ان میں پائی جانے والی احسا س محرومی اور مایوسی کا خاتمے کا ازالہ ممکن ہو سکے۔

(جاری ہے)

بصورت دیگر مذکورہ عمارت کو عوامی مفاد عامہ کے کام میں لانے کے لئے اس میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام عمل میں لایا جائے۔قرار داد پرمحرک کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر خان شاہوانی صوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ جمعیت علماء اسلام کے یونس عزیز زہری صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران پشتونخوامیپ کے نصر اللہ خان زیر ے اور دیگر اراکین اسمبلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے قرار داد کو حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ قرار داد بناتے ہوئے اسے مشترکہ قرار داد کے طورپر منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔

جس پر ڈپٹی اسپیکر سردار بہادر خان موسیٰ خیل نے قرارداد کو مشترکہ قرار داد کے طور پرمنظوری کے لئے ایوان کے سامنے پیش کیا۔جسے ایوان نے مشترکہ طور پر منظور کر لیا۔دریں اثناء صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ وواسا حاجی نور محمد دمڑ نے اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ زیارت کراس سے کچھ اور کچھ کراس سے ہر نائی اور ہرنائی سے سنجاوی تک شاہراہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے تعمیر کرنے کے لئے منظور ی ہو چکی ہے اور کافی عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال مذکورہ شاہراہ پر تعمیر کا کام تعطل کا شکار ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگ کوئلہ پھل اور سبزیاں وغیرہ صوبے کے دیگر اضلاع اورصوبوںمیں پہچانے اور اپنے روزمرہ معاملات نمٹانے سے قاصر ہیں۔

جس کی وجہ سے نہ صرف صوبے بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کر ے کہ زیارت موڑ سے کچھ ہرنائی اور ہرنائی تا سنجاوی شاہراہ کو جلد از جلد ٹینڈر کرنے کے ساتھ اس کی تعمیر کا کام شروع کرے۔ نیز کچھ کراس سے زیارت اور زیارت سے سنجاوی اور پھر سنجاوی سے لورالائی تک شاہراہ کی منظوری دی جائے ۔

تاکہ یہ شاہراہ مکمل طور پر لورالائی N.70 روڈ کے ساتھ منسلک ہو سکے ۔قرار داد کی موزینت پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ زیارت کا شمار صوبے کے سیاحتی مرکز میں ہونے کے ساتھ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا آخری قیام گاہ بھی زیارت ہی میں ہے۔ جبکہ قدرتی حسن صنوبر کے قیمتی جنگلات اور اپنی آب وہوا کی وجہ سے زیارت میں پورے ملک میں سیاح آتے ہیں جوپھر ہرنائی اور دیگر علاقوں کا بھی رخ کرتے ہیں مگر زیارت سنجاوی اور ہرنائی کے درمیان قومی شاہراہ خستہ حالی کا شکار ہے جس کی وجہ سے آنے والے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو آمدورفت کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے اراکین اسمبلی سے استدعا کی اس قرار داد کو منظور کیا جائے۔ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل نے قرار داد ایوان کے سامنے پیش کی۔جس پر ایوان نے قرار داد کی منظور ی دی۔اجلاس میں اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف نکات پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک وبہبود آبادی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ قائد ایوان جام کمال خان صوبے کے عوام کی تقدیر بدلنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات بوستان اور خضدار میں صنعتی زون کے قیام کے علاوہ صوبے کے مختلف مقامات پر چھوٹی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

جبکہ وزیراعلیٰ نے سرکاری نوکریوں کے لئے عمر کی حد میں پانچ سال تک رعایت دینے کے نوٹیفکیشن کی منظوری دی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں محکمہ ملازمت ہائے عمومی ونظم ونسق اس بابت نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔انہوںنے کہا کہ پاکستان ہماری پہچان اورشان ہے۔ مرکز میں قائم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ صوبے کے تمام معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں گیس پریشر کی کمی کے حوالے سے وفاقی وزیرپیٹرولیم کے ساتھ وزیراعلیٰ اور کابینہ اراکین کی تفصیلی میٹنگ ہوئی ہے۔کوئٹہ میں گیس پریشر کی کمی کا مسئلہ بہت جلد حل کیا جائے گا۔بعدازاں ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل نے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments