ً پشتونخواملی عوامی پارٹی کی ہزار گنجی میں چوری وڈکیتی کی وارداتیں اور سرعام منشیات فروشی کی مذمت

پیر 17 جنوری 2022 23:29

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جنوری2022ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے جاری کردہ بیان میں ہزار گنجی واطراف میں چوری وڈکیتی کی وارداتیں اور سرعام منشیات فروشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ پولیس تھانہ جرائم پیشہ عناصراور جرائم کے خاتمے کی بجائے ان کے فروغ کیلئے سرگرم عمل نظر آرہی ہیں کیونکہ ہرسطح پر مثبت معاشرتی سرگرمیوں کے فروغ کی جگہ منفی معاشرتی سرگرمیاں سرعام جاری ہیں جس سے نوجوان نسل سمیت ہر عمر کے افراد منشیات کے جیسے ناسور نشوں کی لت میں پڑچکے ہیں جس کی تدارک کیلئے کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا اور یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے ۔

بیان میںکہا گیا ہے کہ ہزار گنجی کے بس ٹرک اڈہ، کراچی روڈ، سبزی فروٹمنڈی اور مزدا سٹاپ ایریا اور آس پاس کلیوں، بڑیچ ٹاون کاکڑ ٹاون ناخیل آباد چلتن رئیسانی کلی اختر آباد مسلم آباد میں منشیات فروشوں ہیرونچیوں اور چوروں اور ڈاکوؤں کی وجہ سے تاجروں اور عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انتظامیہ شالکوٹ پولیس اسٹیشن نفری اور گاڑیوں کی کمی کی رونا روتی ہے جسکی وجہ سے منشیات فروش سرعام فروخت کرنے اور اس ناسور نشے کے عادی بھی ہر گلی محلے اور سڑک پر ہیروئن پیتے ہیں دوسری جانب چوروں اور ڈاکوؤں کو کوئی روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔

ہر موڑ پر گن پوائنٹ پر تاجروں ، مزدوروں ، شہریوں کو نشانہ بناکر ان سے گاڑی ، موٹر سائیکل ، نقدی ، موبائل وغیرہ چھینا جاتا ہے اور انہیں زدکوب کیا جاتا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ پولیس شالکوٹ تھانہ میں جب متاثرین شکایات ،اطلاعائی رپورٹس درج کرنے آتے ہیں تو انہیں طفل تسلیاں دی جاتی ہیں اور وسائل ، نفری ، گاڑیوں کی کمی کا کہہ کر گشت کرنے میں حیلوں وبہانوں کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہزار گنجی ومذکورہ بالا تمام علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر ، منشیات فروشوں ا ن کے اڈوں کا خاتمہ کیا جائے اور تاجروں ، مزدوروں ، شہریوں کے جان ومال کی تحفظ کو یقینی بنایا جائیں۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments