سکھر میں عاشقان رسول کی دریائے سندھ میں کشتی ریلی

جمعرات اکتوبر 20:49

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اکتوبر2020ء) سکھر میں عاشقان رسول کی دریائے سندھ میں کشتی ریلی، دریائی سندھ کی فضا درود وسلام سے گونج اٹھیں، مرحبا یا مصطفے اور غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کے نعروں نے دریائے سندھ کی موجوں کو تڑپا دیا، عاشقان رسول کی دریا میں واقع صوفی بزرگ اور اولیاء کے مزار پر حاضری، ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعائیں، جشن ولادت منانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے، علمائے کرام کا خطاب تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں جشن عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں تقاریب, پروگرامز اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کی جانب سے ہرسال کی طرح اس سال بھی دریائے سندھ میں کشتی ریلی نکالی گئی جس میں سیکڑوں کی تعداد میں عاشقان رسولﷺ نے شرکت کی ریلی کے باعث دریائے سندھ کی فضا اور لہریں درود وسلام اورمرحبا یا رسول اللہ کی صداؤں سے گونج اٹھی ریلی لب مہران سے شروع ہوئی اوردریائے سندھ کے عین وسط میں واقع صوفی بزرگ اور اولیاء حضرت خواجہ خضر کے مزار سے ہوتی ہوئی واپس لب مہران پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی ریلی کے شرکاء نے صوفی بزرگ حضرت خواجہ خضر کی درگاہ پر حاضری دی اور ملک کی سلامتی,خوشحالی ترقی اور استحکام کے لییدعائیں کی گئیں اس موقع پر جے یو پی نورانی کے رہنماصاحبزادہ حامد محمود شاہ فیضی، تنظیمات اہلسنت ضلع سکھر کے چئیرمین مجاہد اہلسنت مشرف محمود قادری،ڈاکٹر سعید احمد طاہری،مولانا افضل حسینی ودیگر علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کی آمد کا جشن منانا بھی ایک سعادت ہے اور ہم کسی بھی طور یہ سعادت منانے سے نہیں رک سکتے، ریلی کے اختتام پر بھی ملک کی سالمیت استحکام ,خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کی گئی۔

#

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments