بس ڈرائیورکے تین بچے

جمعہ مئی

Amir Bin Ali

مکتوبِ جاپان۔عامر بن علی

پاکستانی نژاد بر طا نوی رکن پا رلیمان سا جد جا وید کو وزیر اعظم ٹریزاے نے بر طا نیہ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کیا ہے ۔ وہ اس سے پہلے خزانہ اور کئی دیگر محکمو ں کے بھی وزیر رہ چکے ہیں ۔ مستعفی ہو نے والی وزیر داخلہ امبررڈ کا قصہ بھی خا صا دلچسپ ہے ، مگر اس وقت میں نئے مقررکیے گئے داخلہ امور کے وزیر سا جد جا وید کے
با رے میں با ت کر نا چا ہتا ہوں ۔

ان کی وزارت کی اہمیت کے متعلق سر سری ذکر کر تا چلو ں کہ خفیہ ایجنسی ایم آئی فا ئیو ، ہو م آفس ، امیگریشن کا محکمہ ، اس کے علاوہ انگلینڈ اور ویلز کی پو لیس بھی وزیر داخلہ کے ما تحت کا م کر تی ہے۔ موجودہ برٹش وزیر اعظم بھی پہلے وزیر داخلہ تھیں ۔ نصف صدی قبل جب پنجاب کے علا قے سا ہیوال سے
سا جد جا وید کے والد ترک وطن کر کے بسلسلہ روزگار بر طانیہ پہنچے تو ایک طویل عرصے تک وہ وہا ں بس ڈرائیور ی کر تے رہے ۔

(جاری ہے)

گرچہ میری نظر میں برطانیہ میں بسنے والے پاکستا نیوں کی غا لب اکثریت لیبر پا رٹی کی حمایت کر تی ہے مگر وزیر مو صو ف کے والد ما رگریٹ تھیچر سے متا ثر ہو کر ٹو ری پا رٹی میں آگئے ۔ قدامت پر ست حمایت کنزرویٹوپا رٹی کو اہل برطا نیہ ٹوری پا رٹی کے نام سے پکا رتے ہیں ۔ اس کی وجہ مجھے بھی معلو م نہیں ہے ۔ ان کی اس تبدیلی کے سا تھ ہی پاکستانی رواج کے مطا بق بچوں کا بھی اسی طرف رجحان بن گیا ۔


ان کی والدہ کا تذکر ہ بھی کر تا چلوں ، 1969 ء میں ساجد جا وید کی پیدائش ہو ئی ، اس سے پہلے اور بعد بھی ان کی والد ہ کپڑوں کا اسٹال لگا یا کر تی تھی ۔ حالانکہ وہ پانچ بہن بھا ئی تھے۔انگلینڈ میں اسٹال سے مراد کو ئی فینسی دکا ن مت سمجھ لیجئے گا ۔ یہ بالکل ویسا ہی منظر ہو تا ہے جئسے پاکستان میں با زاروں کے ارد گرد
فٹ پا تھ پر لگے اسٹالوں کا نظر آتا ہے ۔

بہت مشقت والا کام ہے با لخصو ص جب مو سم خراب ہو تا ہے ۔ میرے ذہن میں یہ سوال کلبلا رہا ہے کہ ایسے محنت کش والدین کا کو ئی بچہ کیا پاکستان میں بھی وزیر داخلہ بن سکتا ہے ؟ اگر ایسا نہیں ، تو پھر اس کی وجہ کیا ہے ؟ نظام حکو مت تو ہما رے ہا ں بھی وہی ہے جو برطانیہ عظمی میں رائج ہے ۔
پا رلیمانی طرز جمہو ریت ایک اور پاکستانی بس ڈرائیور کا بیٹا صا دق خان آج کل لندن شہر کا میئر ہے ہمیں سو چنا چا ہیے کہ کیا وجہ ہے کہ ایک پا کستا نی بس ڈرائیور کا بیٹا لندن کا مئیر تو بن سکتا ہے مگر لا ہور کا مئیر بننے کا بس ڈرئیور کا بچہ سو چ بھی نہیں سکتا ۔

ہما ری جمہوری اور آمرانہ حکومتیں ایک ہی صف میں کھڑی نطر آئیں گی اس با ب کے اندر ۔پاکستان میں حکمران طبقہ اور محنت کش طبقہ الگ الگ ہے۔
ایچی سن کا لج لا ہور کے سا بق پرنسپل نے ایک با ر کہا تھا کہ چا ہے جو بھی حکومت بن جا ئے ۔ کا بینہ کا آدھے سے زائد اراکین میرے کا لج کے فا رغ التحصیل طلبہ ہی ہو ں گے۔ با ت تو مو صوف نے سچ کہی مگر یہ کو ئی قا بل فخر با ت نہیں ہے ، قا بل افسو س اور لمحہ فکریہ ہے۔

پا کستان کو اس حال تک پہنچا نے کے ذمہ دار مذکو رہ پر نسپل کے نا خلف طلبا ء ہی ہیں۔ کا بینہ کی با ت چلی ہے تو مجھے برطا نوی دارالا مراء اور کابینہ کی پہلی مسلمان خاتون رکن سعیدہ وارثی یادآگئی ہے۔اتفاق ایساہے کہ پاکستانی نژاد اس خا تون کے والد محترم بھی بس ڈرائیور تھے۔ یا د رہے کہ سعیدہ وارثی برونس ہیں اور حکمران ٹوری پا رٹی کی سربراہ بھی رہی ہیں ۔

کیا پاکستان میں کو ی بس ڈرائیور یا اس کی بیٹی یہ خواب بھی دیکھ سکتی ہے کہ وہ کبھی حکمران جما عت کی سربراہ بنے یا پھر کا بینہ کی معزز رکن؟
ظاہر ہے یہ سب موجودہ حالت میں ہو نا مشکل نظر آتا ہے ۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اگر پاکستانی بس ڈرائیوروں کے بچے بر طا نیہ میں جا کر اعلی ترین حکومتی عہدوں پر پہنچ سکتے ہیں تو یہ پاک سرزمین پر بھی ممکن ہے ۔

برطا نیہ تو پر ایا دیس ہے ، پاکستان تو ان محنت کشوں کا اپنا دیس ہے ۔ اپنی دھر تی پر تو ہو نہا ر بچوں کی ترقی کا سفر اور زیادہ آسان ہو نا چا ئیے ۔ پچھلے دنوں سا بق برطا نو ی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو سا جد جا وید کے با رے میں یہ کہتے سنا گیاکہ وہ بر طانیہ عظمی کے وزیراعظم بنا نے کے قا بل ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ ، یا کسی اور محنت کش پاکستانی کا بچہ بر طا نیہ کا وزیر اعظم بن جا ئے ، سوال مگر یہ ہے کہ ہمار ے اپنے ملک میں ایسا ممکن کیو ں نہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ کسی مزدور ، کسان ، مزارع دھو بی ، نائی ، قصا ئی ، تیلی،موچی کا بچہ ہما رے ملک میں ایوان اقتدار پر چا ہے جتنی بھی مضبو ط ہے ، مگر ووٹ کی پر چی تو انہیں ہم اور آپ ہی دیتے ہیں ۔

مقتدرحلقوں سے شکو ے، شکا یا ت اپنی جہ وزن رکھتی ہیں مگرہم عوام بھی تو اپنی سو چ کی سمت درست کر یں ، اپنے جیسے لو گو ں کو منتخب کر کے اقتدارسو نپ کر دیکھیں ، اگر پا کستانی بس ڈرائیور کا بیٹا مئیر کی حیثیت سے دنیا کے اقتصادی مرکز لندن کا نظام چلا سکتا ہے تو پھر لا ہور کا نطم و نسق بھی کسی محنت کش کے با صلا حیت بچے کو چلا نے کا مو قع دے کر تو دیکھیں ، انشا ء اللہ بہتری آئے گی ۔

پا کستانی بس ڈرائیور کی بیٹی اگر بر طا نوی حکمران جما عت کو کا میا بی سے چلا سکتی
ہے تو پا کستا نی سیا ست میں بھی ایسا ممکن ہے ۔ پاکستان میں عا م انتخا با ت کی آمد آمد ہے مسا ئل زدہ لوگو ں کے مسائل تبھی حل ہو ں گے جب وہ اپنے طبقے کے اندر سے فیا دت فراہم کریں گے ۔اگر برطانیہ جیسے سات سمندرپارملک میں پاکستانی محنت کشوں کے بچے اچھی قیادت فراہم کرسکتے ہیں تو پھر پاکستا ن میں کیو ں نہیں؟ یقینا ایسا ممکن ہے ۔ محنت کش کی اصل نما ئندگی محنت کش ہی کر سکتا ہے ، کو ئی جا گیر دار یا سرمایہ دار ایسا نہیں کر سکتا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Buss Driver K 3 Bache Column By Amir Bin Ali, the column was published on 04 May 2018. Amir Bin Ali has written 14 columns on Urdu Point. Read all columns written by Amir Bin Ali on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.