اللہ دتی!!!

ہفتہ 16 اکتوبر 2021

 Anum Malik

انعم ملک

بے شک زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ نے دنیا میں کچھ لوگوں کو وسیلہ بنا کر بھی بھیجا ہے جو مشکل وقت میں آپ کے لیے سکون، صحت یابی، بہتر زندگی اور عملی نمونہ کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ نے اس کائنات کو چلانے کیلئے بہت سے لوگوں کو ان کی اہم فرائض سونپ رکھے ہیں۔ انسان کو اس دنیا میں زندگی کے ہر حصے میں دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کیلئے اسی کے مطابق مختلف ادارے، شعبے اور پروفیشنلز بھی موجود ہیں۔


جیسا کہ جب ہم کبھی کسی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں تو سب سے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور پھر اس کے وسیلوں کی طرف رخ اختیار کرتے ہیں جنہیں ان کی قابلیت اور شعبےکے اعتبار سے ڈاکٹر کہا جاتاہے۔ ابھی حال میں ہی ہم نے کورونا جیسی وبا کا مقابلہ کیا، جس میں فرنٹ فوٹ پر کھڑے ہمارے اصل ہیرو ہمارے پرامیڈیکل سٹاف، نرسز اور ڈاکٹروں نے اپنی جان کے نذرانے دے کر اس وبا سے جنگ لڑی اور لاکھوں لوگوں کو نئی زندگی دی، ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی جان بچانے ہیں اور دوسری طرف انہیں میں کچھ کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں جو اپنے اتنے معتبر شعبے کا نام بدنام کرتے ہیں اور لوگوں کی جانوں کے ساتھ کھیل کر جانے لینے والے قاتلوں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)


وہ خود خدا ہی سمجھ بیٹھتے ہیں اتنا پڑھ لکھ دن رات کی محنت کرکے پھر اسی شعبے کو داغ دار کرتے ہیں۔ حال قریب میں مجھے سرکاری ہسپتال میں ایک ایسا تجربہ ہوا کہ اسے آپ سے شئیر کرنا بہت ضروری لگا تاکہ آپ بھی اس ناگہانی آفت سے بچ سکیں۔ امید کرتی ہوں کہ اس میں لکھے گئے اس ادارے اور اب قاتل صفت ڈاکٹروں کے نام بنا ایڈٹ کیے ہی اسے شائع کیا جائے گا۔


یہ قصہ کچھ یوں ہے کہ اللہ نے ہمارے گھر نئے مہمان آنے کی نوید سنائی اور اس کو چار چاند اور بھی لگ گئے جب معلوم ہوا کہ وہ ننھا مہمان رحمت کی صورت میں ہمارے گھر قدم رکھنے والا ہے۔ لیکن!!! 8 ماہ بہترین گزرنے کے بعد اچانک سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم سے ہماری خوشی چھینی جاننے لگی ہے، ماں جو 8 ماہ بالکل ٹھیک رہی اچانک سے اسے ہیپاٹائٹس اے اور ایی کی تشخیص ہوگئی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق شاید ہی کوئی فرد ایسا ہو، جسے زندگی میں کبھی ہیپاٹائٹس اے لاحق نہ ہوا ہو۔ ہیپاٹائٹس اے کا وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور فرد کے متاثر ہونے کی صُورت میں عمومی طور پر جو علامات ظاہر ہوتی ہیں، اُن میں بھوک کم لگنا، منہ کا ذائقہ بدل جانا، تھکاوٹ، کم زوری، درد، گھبراہٹ اور بخار کے ساتھ یرقان ہونا شامل ہیں۔

اس سے متاثرہ افراد دو سے چھے ہفتوں کے اندر بغیر کسی علاج کے بھی صحت یاب ہو جاتے ہیں، جب کہ زیادہ تر سادہ لوح افراد اس دوران جو مختلف ٹونے ٹوٹکے (خصوصاً پیلیا جھاڑنا) آزماتے ہیں، تو اُنہیں ہی علاج یا دوا سمجھتے ہیں، حالاں کہ ایسا ہرگز نہیں۔ اور بدقسمتی سے ایسے ہی فرسودہ خیالات کے سبب ہیپاٹائٹس بی، سی، ڈی اور ای کے شکار مریض بھی وہ وقت، جب مرض قابلِ علاج ہوتا ہے، ان ہی جاہلانہ نسخوں میں ضایع کر دیتے ہیں۔

نتیجتاً زیادہ تر کیسز میں کوئی نہ کوئی پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ماہرین، ہیپاٹائٹس اے کا مؤثر علاج بہتر و متوازن غذا اور پرہیز کو قرار دیتے ہیں۔ دوسری وائرل قسم ہیپاٹائٹس ای ہے، جسے ’’حاملہ کا قاتل مرض‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ ایک رپورٹ کے مطابق 20فی صد حاملہ خواتین کی موت کا سبب ہیپاٹائٹس ای ہے۔ یہ وائرس بھی منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر پیشاب اور فضلے کے ذریعے خارج ہوتا ہے اور ہیپاٹائٹس اے ہی کی طرح جگر کو وقتی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں ابتدا میں شدید یرقان ہوتا ہے، مگر مؤثر علاج کی بدولت چھے ماہ کے عرصے میں مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس اے اور ای لاحق ہونے کی بنیادی وجوہ میں سرِ فہرست آلودہ پانی اور غیر معیاری غذاؤں کا استعمال ہے۔
 لہذا ہمیں اس مرض کی تشخیص اس وقت ہوئی جب یہ کافی حد تک پھیل چکا تھا اور ایل ایف ٹیز بھی خطرناک حد تک بڑھ گئے جس سے ماں اور بچی دونوں کی جان خطرے میں پڑ گئی اور ایسے حالات میں کوئی ہسپتال اس کیس کو لینے کو تیار نہیں تھا پھر مختلف سفارشات پر سرکاری ہسپتال سروس ہسپتال والوں نے انہیں داخل کر لیا کوئی شک نہیں مشکل ترین وقت میں ان کا یہ احسان قابل ستائش تھا لیکن ساتھ ساتھ اب وہاں موجود کالے بھیڑیوں کی بھی کارستانیاں سنتے جائیں جو مریض کے داخلے کے دوران انہیں ساتھ میں یہ بھی بتا رہی ہیں کہ محترمہ آپ یہاں آ تو گئی ہیں لیکن یہاں کٹتا کچھ اور ہوتا کچھ ہے۔

چونکہ ہم ایم ایس صاحب کی سفارش پر گئے تھے تو عملے نے ایسے ٹریٹ کیا جیسے ایم ایس کا غصہ ہم پر نکال رہے ہوں۔
یہ تو ابھی شروعات ہے آگے سنتے جائیں یہ احوال لیبر روم اور یونٹ نمبر 2 کا ہے جہاں ماں بننے والی خواتین جس تکلیف اور کرب سے گزرتی ہیں اوران ماوں کے ساتھ جو جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے پوری داستان قلم بند کرنے کے الفاظ نہیں میرے پاس، ناجانے کن کے رحم و کرم پر وہاں انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

صرف ڈاکٹرز ہی نہیں وہاں موجود جونیئر سٹاف نرسز اور دائیاں سب میں دیگر کالی بھیڑیں موجود ہیں، جنہیں نا مریض کی تکلیف سے کوئی فرق پڑتا ہے نا زندگی اور موت سے، میری آنکھوں کے سامنے کتنی ہی ماوں نے اپنے بچوں کو کھویا ان ڈاکٹروں اور نرسز کی نااہلی کے باعث۔ ہمیں بھی آپریشن تھیٹر لے جاتے وقت بتایا گیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے آپ جیسا ایک کیس تھا جسے آپ سے پہلے آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اوروہ ماں اور بچہ دونوں ہی دوران آپریشن زندگی کی بازی ہار گئے، اب آپ خود اندازہ لگا لیں کیسے کیسے بھیڑیے وہاں موجود ہیں، جو پہلے ہی آپ سے آپ کے جینے کی امید چھین لیتے ہیں۔

صرف اتنا ہی نہیں رپورٹس کی بنا پر ہمیں تو ایسا سولی پر لٹکائے رکھا کہ بس کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے خون کا انتظام کریں، ایسے مریض کو ہم پانی کی طرح وائیٹ سیلز لگاتے ہیں، بلڈ گروپ بھی "او پازیٹو" تھا لیکن کرم اللہ کا ہمیں 8 بوتلوں کا انتظام کرنے کا کہا گیا ہم نے راتوں رات وہ بھی کر لیا اور اس میں سے ایک قطرہ بھی ماں کو نہیں لگایا گیا، خیر یہ بھی وہ ڈاکٹرز ہی بہتر جانتے ہوں گے اس کے پیچھے کیا منطق تھی۔

بچے کی کنڈیشن کے مطابق اس کے لئے آئی سی یو اور وینٹی لیٹر تک کیلئے ہم نے پہلے سے ہی متعلقہ شعبے کے عملے کے پاس جا کر اپنے تسلی بخش انتظامات کروا لیے کہ ہمیں کسی بھی قسم کی تاخیر کا سامنا نا کرنا پڑےاور پہلے سے ہی اپنی ہر ممکن تیاری مکمل رکھیں۔
پھر بالآخر الحمداللہ جس کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں اسی پاک ذات کے فضل و کرم سے اورڈاکٹر سعدیہ اور ڈاکٹر طلح جیسے قابل اور فرشتہ صفت مسیحاوں کی کوششوں سے یہ آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا اور ماں اور بچی دونوں محفوظ رہے لیکن آپریشن کے بعد بھی کچھ کالی بھیڑوں نے اپنا کام بخوبی انجام دیا، ڈریپ کے دوران ماں کا ہاتھ دیکھتے ہی دیکھتے غبارے کی طرح سوج گیا اور درد میں تڑپتی لیبرروم میں موجود ڈاکٹرز اور نرسزز کو ہم بلاتے ہی رہ گئے لیکن وہ اپنی مرضی سے تشریف لائیں اور بس آکر ڈریپ اتار دی ہمارے بارہا کہنے کے باوجود کوئی ڈاکٹر نا آیا اور پھر یورین بیگ حل جانے سے سارا بیڈ شیٹ اور کپڑے خراب ہوگئے جس کے لیے میں وہاں موجود دائیوں کے پاس گئی لیکن مجال ہے کوئی آیا ہو پھر میں ایک کو زبردستی پکڑ کر لائی تو اس نے آ کر دیکھا اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ ایک تو ہمارے پاس مزید بیڈ شیٹس نہیں جیسے میں بدل سکوں اور مجھے ابھی کام ہے وہ کرکے بعد میں آتی ہوں۔

جب میں نے ڈی ایم ایس ڈاکٹر ساریا جو بہت ہی بھلی خاتون ہیں سے ان کی شکایت کی تو کچھ ہی دیر بعد آن ڈیوٹی ڈاکٹر صاحبہ اور وہ دائی بھی حاظر ہوگئیں اور ساتھ ہی ساتھ بیڈ شیٹ بھی بدل گئی، یورین بیگ بھی تبدیل ہوگیا اور ڈریپ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا اور پھر رات کے 12 بجے ہمیں اسی وقت دوسرے یونٹ میں شفٹ ہونے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ خیر ہم شفٹ ہوگئے اور اگلے روز ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث ایک بھی ڈاکٹر سارا دن یونٹ میں دیکھائی نہیں دیا۔

ایک بار پھر ہمیں عملے کی شکایت لے کر ڈی ایم ایس کے پاس جانا پڑا اور اس بار وہ خود چل کر لیبر روم کے ڈاکٹرز کے پاس گئیں اور وہاں موجود ایک ڈاکٹر سے ساری بات ڈسکس کی جس کے جواب میں یہ سننے کو ملا کہ ہیں ہو گیا اس کا آپریشن؟؟؟ ہیں وہ بچ گئی وہ زندہ ہے؟؟؟؟ مطلب آپ تو اپنے تجربے کے مطابق مار ہی چکی تھی انہیں لیکن شاید وہ لاعلم ہے کہ زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والا اوپر بیٹھا ہے وہ سب دیکھ رہا اور سب جانتا ہے۔


 اور ہم نے کوئی 4 سے 5 دن وہاں گزارے جہاں بہت سے برے اور چند اچھے لوگوں سے بھی واسطہ پڑا، جہاں ایک طرف وہاں کے عملے کی ٹریننگ کی ضرورت ہے وہی پر سرکاری ہسپتال میں بہت سی سہولیات کا فقدان بھی ہے اس پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے، وہاں پر جدید لیب، آلات، مشینری اور عملے کی مریضوں کے ساتھ برتاو کی خاص ٹریننگ کی ضرورت ہے۔
آج الحمداللہ ہمارے گھر کی رونقیں دونوں بیٹیاں ہماری بھابھی اور بچی زندگی کے مشکل ترین 5 روز اس ہسپتال میں گزار کر گھر واپس آگئیں۔

اور جس مشکل اور تکلیف سے گزرکر ہمیں یہ خوشی نصیب ہوئی جیسا کہ ڈاکٹر تو ہمیں ناامید کرچکے تھے اللہ نے یہ خوشی عطا کی تو بے ساختہ ہماری والدہ کہ زبان سے نکلا یہ تو ہماری اللہ دتی جیسے اللہ نے ہمیں اتنی آزمائشوں کے ساتھ عطا کیا ہے،اگرچہ اس ننھی پری کا نام زینب ہے، آپ سب سے درخواست ہے کہ اس کی صحت تندرستی والی لمبی عمر اور اچھے نصیب کیلئے اسے اپنی دعاوں میں یاد رکھیں اور ماں کا سایا بھی اپنے بچوں پر سلامت رکھے۔

اللہ پاک کل کائنات کے بچوں اور ماوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین ثم آمین
یقین جانئے یہ ماں کا رتبہ یہی نہیں اتنا بلند وہ اپنے خون کا قطرہ قطرہ اپنی اولاد کو دے کر اسے اس دنیا میں لاتی ہے، قدر کریں اپنی اس جنت کی یہ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ جن کی حیات ہیں اللہ ان کی جنتوں کو بھی ان پر سلامت رکھے۔ الہی آمین ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column ALLAH Diti Column By Anum Malik, the column was published on 16 October 2021. Anum Malik has written 15 columns on Urdu Point. Read all columns written by Anum Malik on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.