پیغام پاکستان

پیر اکتوبر

Khalid Mehmood Faisal

خالد محمود فیصل

یہ اس زمانے کی بات ہے جب انقلاب ایران کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اس کے اثرات مشرق وسطیٰ میں محسوس کئے جا رہے تھے،ہمارے ہاں آنجہانی ضیاء الحق مسند اقتدار تھے،حلقہ احباب میں سے ایک دوست گویا ہوئے کہ اس دور جو مذہبی اجتماعات ہوتے ان کا ماحول روح کو گرماتا تھا،یہ اوائل عمر تھی،خطباء کی وعظ سن کر دل چاہتا تھا کہ یہاں سے نکل کر مخالف فرقے کے چند بندے ڈھیر کر یں پھر تفاخرانہ انداز میں حاضری دیں، جب عملی زندگی میں داخل ہوئے تو ہمیں ان نام نہاد علماء سے گھن آنے لگی، ظلم خدا کا کہ وہ کس طرح نو عمر افراد کے جذبات سے کھیلتے تھے ۔


ایک روز دوست کے ہاں حاضر ہوئے،وہ بڑے افسردہ تھے ہم نے سبب پوچھا تو مایوسی کے عالم میں بولے نجانے یہ نیم ملاء اس سماج کے اور کتنے ٹکڑے کریں گے،غم زدہ اس لئے ہوں کہ کراچی میں میرا ایک عزیز چھ بہنوں کا اکلوتا مگر تعلیم یافتہ، شریف النفس بھائی فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھ گیا حالانکہ وہ مجالس میں بھی کم جاتا، امن پسند تھا، ایک روز ہم ہوٹل میں اس علاقہ میں چائے نوش فرما رہے تھے،جو روائتی کھانوں، ناشتہ کے لئے مشہور تھا،ایک گاہک جو سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا اس نے کچھ افراد کے ساتھ مل کر چائے پی، ان کے روانہ ہوتے ہی مالک نے اس کپ کو توڑ پھینکا جس میں اس نے چائے پی تھی،یہ وہ ماحول تھا جو خاص مقصد کے لئے یہاں پروان چڑھایا گیا،کسی کی ”پراکسی وار“ کو اپنی سرزمیں پر لڑاگیا جس کے نتیجے میں ہزاروں انسان لقمہ اجل بن گئے،ان میں بڑے تعلیم یافتہ، پروفیشنل،مہذب ،محب وطن لوگ بھی تھے،لیکن اقتدار کی طوالت کے لئے یہ کھیل کھیلا گیا، ان مسالک سے وابستہ یہاں ہجرت کر کے نہ آئے تھے،نہ ہی یہ عقائد نئے وارد ہوئے تھے پھر نجانے کیوں باہمی اختلاف کو موت اور زندگی کا مسئلہ بنادیا گیا تھا، یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ، علماء کرام خاتمہ فرقہ بازی کے لئے سفارشات کو آئین کا حصہ بنا کر قانون سازی کرنے کا درس دیتے ہیں، وہ اس زمانے میں کہاں تھے ؟ جب جنگ وجدل کا بازار گرم تھا، کئی بہنوں کے بھائی بے گناہ مارے گئے ،کئی عورتوں کے سہاگ اجڑ گئے، لیکن یہ سب اپنے اپنے عقیدہ کو سچ ثابت کرنے کے لئے مباحث اور مناظروں میں الجھے رہے، ،کیا اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ مناصب اس لئے دئے تھے کہ وہ امت کو فروعی بنیادوں پر تقسیم کر ڈالیں؟ ان کو اندازہ نہیں تھا کہ ا نکے شعلہ سازبیانات کسی گھر کا چراغ گل کر سکتے ،کس کی املاک کو آگ لگا سکتے ہیں، ، ان تمام واقعات سے صرف نظر کرنے کے جرم سے یہ خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔

(جاری ہے)


 کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ اختلافی مباحث کو اپنے ہی علمی حلقوں تک محدود رکھتے، امت کے اتحاد کا درس دیتے، لیکن یہ بھی مفادات کی رو میں بہہ گئے،اس وقت بھی جو قومی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے ہمارے مذہبی پیشواء اب بھی نسل نو کو مسالک میں منقسم کرنے کی مشق میں مصروف ہیں، نئے نئے عمامہ جات سے ہی کسی نئے گروہ، مسلک کے وجود کا پتہ چلتا ہے ایک طرف سرکار سے اس سماجی برائی کا خاتمہ کی اپیل تو دوسری طرف نت نئی خرافات کی آمد انکے اخلاص کو عیاں کر رہی ہے،دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے عقائد کے مطابق پر امن زندگی بسر کر رہے ہیں، مگر ہمارے ہاں ہر وقت خود ساختہ اسلام کو خطرہ لاحق رہتا ہے،کیا ہمارا مذہبی طبقہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس جنگ کے نتیجہ
 میں ہماری معاشرت، معشیت، تہذیب، کلچر،اتفاق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ نسل نو اپنے مذہب سے دور ہوتی جارہی ہے،اعلی اخلاقی روایات جو ہمارے اسلامی کلچر کا حصہ ہیں ان سے یہ نابلد ہے،فرقہ ورانہ لڑائیاں اسکو علماء کرام سے دور کر رہی ہیں، جو اسلاف کی پہچان اور علم کا منبع ہیں،کیا ہی اچھا ہوتا کہ علماء کرام نسل نو کو اپنی گم شدہ علمی میراث کو پھر سے زندہ کرنے کی جانب راغب کرتے، ان میں تحقیق کی جستجو کو ابھارتے،مغربی دنیا سے تقابل کی ترغیب دیتے تو حالات یکسر مختلف ہوتے، ہماری کم مائیگی کا فائدہ اغیار نے اٹھایا ہے ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم فرماتے تھے کہ ہم نے را، موساد، سی آئی کے لئے کام آسان کر دیا ہے،اب وہ فرقہ واریت کی جنگ میں کود پڑے ہیں،دیگر علماء کرام آج بھی طلباء کو سطحی علم دینے میں مصروف ہیں، لیکن قرآن فہمی کا جو وژن ڈاکٹر اسرارمرحوم نے دیا ہے وہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے،خون سے رنگیں سرزمیں کو دیکھ کر سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم بھی خاموش نہ رہ سکے داعی امت کے طور پر انھوں نے 23اپریل 1995کو منصورہ میں ملی یک جہتی کونسل قائم کی تمام مکاتب فکر کے قائدین کوایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور ضابطہ اخلاق مرتب کیا تھا،اس کے بڑے مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے،عالمی دباؤ کی بدولت سابق آمر نے ان تمام تنظیموں پر پابندی عائد کی تھی جنہوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی تھی،لیکن انھوں نے دوسرے نام سے کام شروع کر دیا تھا۔

ڈھکے چھپے یہ کام بہرحال جاری ہے۔
مولانا زاہدالراشدی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں ہر اختلاف کوحق و باطل ،کفر اور اسلام کے لہجے میں بیان کرنے کا مزاج بن گیا ہے،اختلافات موجود ہیں ،رہیں گے،انکو ختم نہیں کیا جاسکتا،لیکن ان کے اظہار کے لئے مناسب زبان، الفاظ،معقول لہجہ اسکی شدت کو کم کر سکتاہے، جب حضرت موسی علیہا سلام کو فر عون کے پاس اللہ تعالیٰ نے بھیجا تو حکم دیا کہ اس سے نرم لہجہ میں بات کرنا،معاشرتی بائیکاٹ کا جو ماحول ہمارے ہاں بنا دیا جاتا ہے وہ سیرتﷺ کے برعکس ہے۔

علماء کے مطالبہ پر”پیغام پاکستان“ کے عنوان سے متفقہ فتوی کو آئینی حثیت دے کر اور سختی سے عملدرآمد کروا کر ہم اس عذاب سے جان چھڑا سکتے ہیں، جس نے سماج سے محبت، اتحاد اور اخوت چھین لی ہے جس میں بڑا کردار نیم ملاؤں کا ہے۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ عادلانہ نظام اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش سے نافذ کر نے کے نتیجہ میں فرقہ واریت میں کمی ہو سکتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Paigham E Pakistan Column By Khalid Mehmood Faisal, the column was published on 19 October 2020. Khalid Mehmood Faisal has written 105 columns on Urdu Point. Read all columns written by Khalid Mehmood Faisal on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.