"ماؤں کا عالمی دن"

پیر 10 مئی 2021

Muhammad Jamshaid Ashraf

محمد جمشید اشرف

اس دنیا میں ایک ہستی ہے وہ ہستی ماں کی ہے میری ماں میری جنت ہے  اج میں آپ سب کے سامنے اپنی ماں کی خدمت میں کچھ لکھنے کے لیے حاضر ہوا ہو  انشاللہ اپ کو پڑھ کے اچھا لگے گا
ہر میدان میں ہمت باندھنے والی میری استاد، میری ماں ،"
بےشک ماں"انسانیت کے لبوں پہ حسین ترین نام ہے
میں دن کا آغاز اپنی ماں کو دیکھ کے کرتا ہوں جس سے   دن  بہت اچھا گزرتا ہے جب بھی ماں کی طرف دیکھتا بس ایک عجیب سی خوشی ملتی ہے ویسے تو میں لکھنے بیٹھ جاؤ تو لکھتا چلا جاو لیکن ماں کی تعریف ختم نہ ہو  میری ماں میرا سرمایہ ہے میری خوشی میں میری ماں کی خوشی ہوتی ہے اگر میں کوئی غلطی کرو تو پیار سے سمجھاتی ہیں کہ بیٹا یہ غلط بات ہے یا غلط کام ہے میری ماں میری جنت بہت پیاری ہے  میری ماں کی کوشش ہوتی ہے کہ ہماری آنکھوں میں کبھی آنسو نہ آئے میں کبھی کبھی سوچتا ہو کہ وہ کتنے کم بخت لوگ ہیں جو اپنی ماں کو برا بھلا کہتے ہیں ان کو اپنا پچپن یاد نہیں ہوتا کہ اج کل بازار سے سب کچھ مل جاتا ہے لیکن ماں نہیں ملتی جب بھی گھر سے نکلتا ہو چاہے کوئی بھی کام ہو اتنی پیاری پیاری دعائیں دے کے رخصت کرتی ہے
میری بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ میری ماں مجھ سے کبھی ناراض نہ ہو قسم اللّٰہ پاک کی جب کبھی ناراض ہو بھی جائے تو تب تک سکون نہیں ملتا جب تک منا نہ لو میری ماں میری جان ہے میری ماں میری ہیرو ہے ویسے تو کوئی ایک دن ماں کیلئے نہیں ہوتا بلکہ ہر دن ماں سے ہی ہوتا لیکن  میں آپ سب کو اج Mother day
پہ یہ کہنا چاہوں گا کہ پلیز اپنی ماں کی قدر کرو ماں سے زیادہ پیار کرنے والا اس دنیا میں کو نہیں ہے ماں جیسی ہستی  سبحان اللہ کیا ہستی ہے  میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بیٹے کو اپنی ماں کو مارتے ہوئے اور ماں کا پیار دیکھو ماں کے منہ سے کوئی غلط لفظ نہیں نکلا بس مجھے یہی سنائی دیا بیٹا مجھے مت مارو میں آپ کی ماں ہو اللّٰہ پاک کی قسم وہ الفاظ سن کے تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے جسم سے روح الگ ہو  گئی  ہو آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے آگے میں آگے بڑھا میں نے کہا آئے ظالم کیا کر رہا ہے اپنی ماں اپنی جنت کو مار رہا ہے کہتا ہے جاؤ آپ میری ماں جو مرضی کرو مجھے غصہ ایا میں نے کہا ماں تو ماں ہوتی ہے چاہے جس کی بھی ہو اب امی کو ہاتھ لگایا تو اچھا نہیں ہو گا تو اس کی ماں نے جو کہا وہ ہمت تو نہیں ہو رہی بڑی مشکل سے لکھ رہا ہوں اس کی ماں کہتی ہے بیٹا آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی پلیز میرے بیٹے کو کچھ نہ کہوں میں نہیں نہیں دیکھ سکتی  آئے ظالم انسانوں جو اپنی ماں جیسی ہستی کو مارتے ہو یا گھر سے نکال دیتے ہو کیا آپ کو یاد نہیں اپنا پچپن جب آپ اپنا بستر گیلا کر دیتے تھے تو   دسمبر کی سرد راتوں میں آپ کو ماں اپنی جگہ سولا دیتی اور خود ساری رات اپ کی گیلی جگہ پہ سوتی خود بھوکی رہ کے آپ کو کھلاتی اور بھی پتہ نہیں کتنی مصیبتیں اٹھائیں آپ کی خاطر لیکن جب آپ جوان ہوئے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہوئے تو اسی ماں کو بھول گئے اسی ماں پہ ظلم کی انتہا کردی ماں نو بیٹوں کو اکیلے پال سکتی ہے لیکن نو بیٹے مل کے ایک ماں کو خوش  نہیں رکھ سکتے جب سب جوان ہو گے بڑا کہتا چھوٹے کے پاس جاؤ چھوٹا کہتا بڑے کے پاس جاو ماں بزرگی میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتی رہتی ہے  میری آپ سب سے درخواست ہے اللّٰہ کے واسطے اگر آپ کی ماں آپ سے ناراض ہے تو پلیز انھیں منا لو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے اگر ناراض ماں وفات پا گئی تو اس کی قبر پہ جاؤ رو رو کے معافی مانگو اور جن کی مائیں ذندہ ہیں وہ ان کی خدمت کرے ماں کی خدمت کرو گے تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے اللّٰہ پاک میری ماں کو ہمیشہ خوش رکھے اور  صحت  والی  لمبی زندگی عطا فرمائے اللّٰہ پاک سب کی مائیں سلامت رکھے اور سب کو اپنی ماں کا خدمت گزار بنائے آمین ثمہ آمین ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :