فاٹاکے نام پرسیاست کیوں ۔۔؟

جمعرات جنوری

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

تاریخ اٹھاکردیکھتے ہیں توہمیں اپنے آپ سے بڑے ظالم ۔۔بے حس اورسنگدل لوگ اس مٹی پر اورکوئی نظرنہیں آتے۔۔ہم وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھ آج بھی اپنوں کے بے گناہ خون سے رنگین ہیں ۔۔لوگ اپنوں کے لئے جان دیتے ہیں لیکن ہم وقتی فائدے اورذاتی مفادکے لئے اپنوں کی جانیں لینے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔۔قوم کی جوان بیٹیوں اوربیٹوں کی عزتوں ۔

۔عصمتوں اورسروں کاسوداہم نے اپنے ہاتھوں سے کیالیکن پھربھی ہمارے دل ٹھنڈانہیں ہوئے نہ ہی ہماری ہوس اورحرص کی آگ ایک لمحے کے لئے بھی کبھی بجھی۔۔یہی وجہ ہے کہ قبائلی عوام کوامریکی ڈالروں کی کمائی اوراقتدارکودوام بخشنے کے لئے ایندھن کے طورپراستعمال کرنے کے بعداب ہم ان کی ہڈیاں نوچنے سے بھی دریغ نہیں کررہے۔

(جاری ہے)

۔ملک پرجب بھی کوئی مشکل اورکڑاوقت آیاتوقبائلی عوام کوہم نے ہمیشہ اگلی صفوں میں پایا۔

۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی پاک فوج کے بعدسب سے زیادہ قربانیاں قبائلی عوام نے ہی دی ۔۔ہم تواسلام آباد۔۔کراچی ۔۔لاہور۔۔پشاوراورایبٹ آبادمیں بیٹھ کر،،امن امن،، کے خشک گیت گاتے رہے لیکن قبائلی عوام نے حقیقی معنوں میں پاک فوج کی پشت پرکھڑے ہوکرامن کے لئے اپنامن۔۔تن اوردھن قربان کیا۔۔ آج ملک میں امن کی جوتازہ ہوائیں چل رہی ہیں ان ہواؤں میں ہمارے شہیدفوجی جوانوں کے ساتھ قبائلی عوام کی قربانیاں اورخون بھی شامل ہے۔

۔قبائلی عوام نے توہمارے کل کیلئے اپناآج قربان کیالیکن ہم اپناآج اورکل تودور،،اپنے وقتی فائدے اورسیاسی مفادات ،،بھی ان کے لئے قربان کرنے کوتیارنہیں ۔۔کل تک توہم میں سے کسی کوقبائلی عوام کی کوئی فکرنہیں تھی لیکن قبائلیوں کی طویل قربانیوں کے بعدآج جب فاٹاکوقومی دھارے میں شامل کرنے کی صورت میں ان قبائلیوں کوان کی اپنی لازوال قربانیوں کاثمرملنے لگاہے تواب ہم سب اپنے اپنے مفادسے بھری بوریاں ہاتھوں میں اٹھائے میدان میں نکل آئے ہیں ۔

۔ فاٹاالگ صوبہ بنے یاخیبرپختونخوامیں ضم ہو۔۔ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے ۔۔؟گھرکوگراناہے یاآبادکرنایہ فیصلہ کوئی ایراغیرانہیں گھرکامالک خودکرتاہے ۔۔فاٹاکے اصل مالک ایک دونہیں ہزاروں اورلاکھوں موجودہیں ۔۔ایسے میں ہروقت مفادکی طرف کوے کی طرح لپکنے والے ان سیاستدانوں کاکوئی حق نہیں بنتاکہ وہ اپنے سیاسی اورذاتی مفادکے لئے فاٹاکے عوام پراپناکوئی فیصلہ مسلط کرے۔

۔فاٹاصوبہ بنے یاکے پی کے میں ضم ہو۔۔ہمیں اس سے کوئی لینادینانہیں ۔کیونکہ فاٹاکے حوالے سے جوبھی فیصلہ ہوگااس کااثرقبائلی عوام پرپڑے گاہم پرنہیں لیکن ہم جمہوریت میں کسی بھی طورپرآمریت کے قائل نہیں ۔۔تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان اوراسفندیارولی سمیت یہ دیگرسیاستدان قبائلی عوام کی مرضی کے بغیرفاٹاکوخیبرپختونخوامیں کیسے ضم کرناچاہتے ہیں ۔

۔؟کل تک توہم سمجھ رہے تھے کہ پختونوں کے سروں پرسیاست اورحکمرانی کرنے والے اسفندیارولی اورعمران خان شائدنیک نیتی سے کچھ کرناچاہتے ہیں اوران کی طرف سے فاٹاکے مستقبل کے حوالے سے جوآوازبلندکی جارہی ہے وہ فاٹاکے عوام کی ہی کوئی آوازہے لیکن اسلام آبادمیں فاٹاکوالگ صوبہ بنانے کے حق میں ہونے والے قبائلی عوام کے احتجاج اورمظاہرے نے ہمارے ان اندازوں اورخوش فہمیوں کوغلط ثابت کردیا۔

۔قبائلی عوام اگرفاٹاکوخیبرپختونخوامیں ضم کرنے کی بجائے الگ صوبہ بناناچاہتے ہیں توپھرالگ صوبے کی بجائے فاٹاکوکے پی کے میں ضم کرنے کی صدابلندکرکے عمران خان ،اسفدیارولی سمیت یہ دیگرسیاستدان کس طرح قبائلی عوام کے ساتھ مخلص ہوسکتے ہیں ۔۔ ؟فاٹاکوخیبرپختونخوامیں ضم کرنایہ قبائلی عوام کی نہیں چندسیاستدانوں کی ڈیمانڈہے ۔قبائلی عوام اگرفاٹاکوصوبے میں ضم کرناچاہتے تووہ ہاتھوں میں کتبے اوربینرزاٹھاکرصوبے کے قیام کے لئے اسلام آبادکی شاہراہوں پرکبھی احتجاج اورمظاہرے نہ کرتے۔

۔ہم پہلے ہی یہ گزارش کرچکے ہیں کہ سیاسی اورذاتی مفادات کے لئے فاٹاکوکانٹانہ بنایاجائے۔فاٹاکوئی چھوٹاعلاقہ نہیں نہ ہی وہاں کی آبادی کوئی کم ہے ۔۔پرویزخٹک جیسے حکمرانوں سے اپناصوبہ سنبھالانہیں جارہاایسے میں وہ فاٹاکے وارث بن کرکیاتیرمارلیں گے۔۔؟تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے ہی توقوم کویہ سبق پڑھایاکہ جب تک اختیارات اوروسائل نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے اس وقت تک تبدیلی نہیں آئے گی ۔

۔اپنی زمین ۔۔اپنااختیاراگرتبدیلی کاماٹوہے توپھرفاٹاسمیت ملک بھرمیں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کے قیام میں کیاحرج ہے۔۔؟فاٹاہم سے کوسوں دورہے وہ صوبہ بنے یااسے خیبرپختونخوا میں ضم کیاجائے دونوں صورتوں میں ہمیں ایک پائی کابھی فائدہ نہیں ہوگالیکن ہم صرف اس لئے فاٹااورقبائلی عوام کارونارورہے ہیں کہ ہمیں اندازہ ہے کہ اگرفاٹاکوالگ صوبہ نہ بنایاگیاتوکل کوفاٹاکاحال بھی ہمارے ہزارہ سے ذرہ بھی مختلف نہیں ہوگا۔

۔کہنے اورلکھنے کوبدقسمت ہزارہ بھی خیبرپختونخواکاایک حصہ ہے لیکن ترقیاتی عمل میں یہ حصہ کہیں نظرنہیں آرہا۔۔ہمیں نہیں لگتاکہ آئندہ کبھی خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت سے بڑھ کرانصاف کرنے والی کوئی حکومت آئے ۔۔پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت انصاف کاترازوہاتھ میں لئے اقتدارمیں آئی تھی لیکن اس کے باوجودترقیاتی عمل میں انصاف پسندوں کی اس حکومت میں ہزارہ کوجس طرح نظراندازکیاگیاوہ اب کوئی رازنہیں رہاہے ۔

۔ہم نے سیاسیوں کی طرح کبھی اٹک پاراوراٹک آرکے نعرے نہیں لگائے نہ ہی قوم کوتقسیم کرنے کاایک لفظ بولایالکھا۔۔قومیت اورلسانیت کی سیاست اورپرچارپرہم آج بھی ایک نہیں ہزاربارلعنت بھیجتے ہیں۔شمال سے جنوب اورمشرق سے مغرب تک یہ ساراپاکستان ہماراپنااورجان سے پیاراوطن ہے لیکن اگرانصاف کی نظرسے دیکھاجائے توانصاف والوں کی حکومت میں بھی اٹک پارجتنے کام ہوئے اس کے آدھے بھی اٹک آرنہیں ہوئے ۔

۔ساڑھے چارسالوں میں پورے ہزارہ کوجتنے ترقیاتی فنڈزملے اس کے برابروزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویزخٹک کے ایک آبائی ضلع میں خرچ ہوئے ۔۔انصاف کے نعرے لگانے والے حکمران جب اس طرح کارویہ اورسلوک روارکھیں گے توپھرلوگ الگ صوبوں کے قیام کا مطالبہ اوراس کے لئے جدوجہدنہیں کریں گے تواورکیاکریں گے۔۔؟اس تناظرمیں جولوگ فاٹاکوصوبہ بنانے کی مخالفت کرکے اس کوخیبرپختونخوامیں ضم کرنے کی باتیں کررہے ہیں وہ قبائلی عوام سے ذرہ بھی مخلص نہیں ۔

۔فاٹاکوخیبرپختونخوامیں ضم کرنے سے کل قبائلی عوام کی بھی یہی حالت ہوگی جوآج ہزارہ سمیت خیبرپختونخواکے دیگرڈویژن۔۔اضلاع اورپسماندہ علاقوں کی ہے ۔۔فاٹاکوکے پی کے میں ضم کرنا،،بلی کودودھ ،،کی رکھوالی اورچوکیداری پرمامورکرنے کے مترادف ہے۔۔جولوگ آج ہزارہ اوردیگرپسماندہ علاقوں کے عوام کوان کے حقوق نہیں دے رہے وہ کل کوقبائلی عوام کوان کے حقوق کیسے دیں گے۔

۔؟ہزارہ ۔۔تھرپارکراورجنوبی پنجاب کے لوگ تواپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اورحکمرانوں کے ظلم وستم پرچپ سادھ لیتے ہیں لیکن قبائلی ظلم پرخاموش رہنے والے لوگ نہیں ۔۔کل کووہ پھراپنے حقوق کے لئے ہتھیاراٹھانے سے بھی دریغ کریں گے۔۔ کل کی پیشمانی اورندامت سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جوش کی بجائے ہوش میں فاٹاکے مستقبل کے حوالے سے کوئی ایسافیصلہ کیاجائے جوسیاستدانوں کومنظورہویانہ ۔

۔لیکن کم ازکم قبائلی عوام کوضرورمنظورہو۔کیونکہ فاٹامیں کسی سیاستدان نے نہیں رہنابلکہ قبائلی عوام ہی فاٹاکے اصل مالک اوروارث ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں وہاں گزارنی ہے ۔۔فاٹاکسی سیاستدان اورحکمران کے باپ داداکی جاگیراورملکیت نہیں بلکہ یہ لاکھوں قبائلیوں کو اپناعلاقہ ہے ۔ اس بارے میں وہ جوبھی فیصلہ کریں گے وہ معتبراورحتمی ہوگا۔اس لئے مفادپرست سیاستدان اورحکمران فاٹاکے معاملے پراپناچورن بیچنے سے بازرہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column FATA K Name Per Siasat Kiyon Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 04 January 2018. Umer Khan Jozvi has written 310 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.