فیض آباد دھرنا کیس، خادم رضوی، دیگر کے خلاف 3 مقدمات داخل دفتر ،ْمزید کارروائی روک دی

مقدمات کی نئے سرے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دوبارہ چالان جمع کروایا جائے گا ،ْپولیس کی رپورٹ

پیر اپریل 16:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر فیض آباد دھرنا کیس کے ملزمان خادم حسین رضوی اور دیگر دھرنا قائدین کے خلاف 3 مقدمات کو داخل دفتر کرتے ہوئے مزید کارروائی روک دی۔ پیر کو انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ مقدمات کی نئے سرے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دوبارہ چالان جمع کروایا جائے گا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ نیا چالان جمع کرائے جانے تک کیس کی سماعت نہ کی جائے۔جس پر عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مقدمات پر مزید کارروائی روک دی اور بعدازاں سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذیبی جماعت تحریک لبیک کی جانب سے دھرنا دیا گیاجو تقریباً 22 روز بعد ختم ہوا تھا جبکہ اس دوران توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

مذکورہ کیس کی 5 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی اور دیگر قائدین مولانا افضل قادری، مولانا عنایت اور شیخ اظہر کو مفرور ملزم قرار دیتے ہوئے ملزمان کی بذریعہ اشتہار طلبی کا حکم دیا تھا۔بعدازاں 19 مارچ کو عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا تھا۔