محنت کی کمائی سے پیراگون سٹی میں زمین خریدی جو گوشواورں میں بھی ظاہر کی گئی‘،ْ تمام رقوم بینکوں کے ذریعے ادا کی گئیں جس کی مکمل تفصیلات نیب کو خود فراہم کیں ،ْ ریلوے کا ریکارڈ جلانے کے متعلق غلط اطلاعات پھیلائی جا رہی ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،ْ ملک کو سلامتی کی طرف لے جانے والا واحد راستہ صاف، شفاف اور بروقت انتخابات ہیں ،ْفیصلوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر کبھی عدلیہ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ،ْ لوہے کے چنے والی تقریر 14 ماہ پرانی ہے جس کی وضاحت اسی روز کر دی تھی کہ میرا ہدف سیاسی مخالف تھے

وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کا خواجہ سلمان رفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ اپریل 00:00

لاہور۔17 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ محنت کی کمائی سے پیراگون سٹی میں زمین خریدی جو گوشواورں میں بھی ظاہر کی گئی‘،ْ تمام رقوم بینکوں کے ذریعے ادا کی گئیں جس کی مکمل تفصیلات نیب کو خود فراہم کیں ،ْ ریلوے کا ریکارڈ جلانے کے متعلق غلط اطلاعات پھیلائی جا رہی ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،ْ ملک کو سلامتی کی طرف لے جانے والا واحد راستہ صاف شفاف اور بروقت انتخابات ہیں ،ْفیصلوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر کبھی عدلیہ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ،ْ لوہے کے چنے والی تقریر 14 ماہ پرانی ہے جس کی وضاحت اسی روز کر دی تھی کہ میرا ہدف سیاسی مخالف تھے ۔

وہ منگل کے روز لاہور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

صوبائی وزیر ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق بھی ان کے ہمراہ تھے۔۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے ان پر اور ان کی فیملی پر ایک نیا حملہ کیا گیا ہے کہ پیراگون سٹی کے کاغذات جس میں خواجہ سعد رفیق کی ملکیت ظاہر کی گئی منظر عام پر آگئے جس کا جواب دینا ضروری تھا ،ْ انہوں نے کہا کہ 2011-12ء میں انہوں نے برکی روڈ پر 44کینال زمین خریدی جسے گوشواروں میں بھی ظاہر کیا اور ٹرانزکشن بینک کے ذریعے کی گئی ۔

2014ء میں سلمان رفیق نے جگہ خریدی اور 2016ء میں ہم دونوں نے پیراگون سٹی سے ایک معاہدہ کے ذریعہ50کینال اراضی دے کر 40کینال اراضی لی جس کے ڈویلپمنٹ چارجز کے لئے 3کروڑ روپے کی رقم قسطوں میں جمع کروا رہے ہیں جس کی تفصیلات خود نیب کو فراہم کیں۔انہو ں نے کہا کہ اب اس کو سکینڈلائز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔اس وقت ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے میری کوئی ناجائز پراپرٹی پکڑ لی ہو ۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ کام غیر قانونی ہوتا تو میں اسے گوشواورں میں ظاہر نہ کرتا ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کچھ لوگ پراپیگنڈا کرنے کے ماہر ہیں اور وہ اس کے لئے حدود بھی کراس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ایک نیا پراپیگنڈا یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ریلوے کا ریکارڈ جلا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاگل ہیں کہ ایک ادارہ جسے ہم نے دوبارہ زندہ کیا اور اس میں نئی جان ڈالی تواس کا ریکارڈ کیوں جلائیں،ْ اب ہم نے وہاں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے تا کہ کوئی دوسرا اس کا فائدہ نہ اٹھا لے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک پارٹی ترجمان جو متعدد پارٹیاں بدل چکا ہے الزام لگا رہا ہے کہ خدانخواستہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ میں ہم ملوث ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الزام کا سرپیر ہوتا ہے اور اس طرح کا الزام لگانے سے پہلے سوچنا چاہیی،ْ عدالت کے فیصلوں پر کوئی اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم عدلیہ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ،ْ ریاستی ادارے اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ملزمان کا پتہ چل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے گالی اور الزام کا کلچر عام کیا اور وہی ان کی پارٹی کا وطیرہ ہے ،ْ اس طرح کے الزامات لگانے سے ووٹ خراب نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میںنے آج تک اپنے والد شہید کے قاتلوں کا بدلہ نہیں لیا اور اب تو کسی کیلئے بددعا بھی نہیں کرتا کیونکہ 40سالہ سیاست کے تجربہ نے بہت کچھ سکھلا دیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے مسلم لیگ (ن ) کے ورکروں سے گزارش کی کہ وہ اپنے موقف پر قائم رہیں لیکن کسی کی تضحیک نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں سیاسی دنگل کی بجائے اداروں میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے اور اگر یہ ایسے ہی بڑھتی رہی تو یہ ملک کے لئے ٹھیک نہ ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں بنایا جانے والا نیب کالا قانون تھا جو آج بھی کالا قانون ہی ہے ،ْ ہمیں اس پر قانون سازی کرنی چاہیے تھی جو نہ کر سکے اور اگر آئندہ موقع ملا تو اس پر ضرور قانون سازی کی جائے گی۔

Your Thoughts and Comments