پاک بھارت فوجی سربراہان کے کشمیر بارے بیانات حوصلہ افزا اور حقائق کے عین مطابق ہیں ،حریت رہنماء

مذاکرات ناقابل تردید حقیقت ہے جسے عملی جامہ پہنانے کیلئے دونوں ممالک کو سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہئے

بدھ اپریل 12:17

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء اور جموںوکشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے پاکستان اور بھارت کے فوجی سربراہان کے کشمیر بارے بیانات کو حوصلہ افزا اورکشمیر سے متعلق زمینی حقائق کے عین مطابق قراردیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آغا سیدحسن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے مذاکرات کے ذریعے سیاسی طورپر ہی حل کیاجاسکتا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ دونوںملکوں کی فوجی قیادت کا یہ نظریہ کہ تنازعہ کشمیر صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ایک ناقابل تردید حقیقت ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے دونوں ممالک کو اب ایک سنجیدہ سوچ اختیار کرکے بلا تاخیر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

آغا سید حسن نے کہاکہ بھارت اور پاکستان خطے کی جوہری طاقتیں ہیں اور اس تناظر میں مسئلہ کشمیر کے کسی فوجی حل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ادھر پیپلز پولیٹکل فرنٹ کے چیئرمین محمد مصدق عادل نے سوپور میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے فوجی سربراہان کے کشمیر بارے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کا یہ بیان اک حقیقت ہے کہ بندوقیں یا طاقت کے استعمال میں کسی کی جیت نہیں ہے اور نہ ہی تنازعہ کشمیر کاحل اس میں موجودہے۔انہوںنے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ بیان کہ مسئلہ کشمیر کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتا ہے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کی فوج کے سربراہان کے حالیہ بیانات جنوبی ایشیاء کے کروڑوں عوام کیلئے راحت کا پیغام ہے ۔

متعلقہ عنوان :