حکمراں جماعت ہونے کے باوجود نوازشریف حکومت کو مفلوج کہتے ہیں، ائیر مارشل(ر)شاہد لطیف

بدھ اپریل 13:09

حکمراں جماعت ہونے کے باوجود نوازشریف حکومت کو مفلوج کہتے ہیں، ائیر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ(ن)کے تا حیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ بیان پرتجزیہ کار ائیر مارشل(ر)شاہد لطیف نے کہا ہے کہ نواز شریف کے نزدیک جمہوریت کا مطلب ہے حکمران ٹولا، جب مسلم لیگ (ن) پر تنقید ہو یا ان کی انتظامیہ پر بات کی جائے تو انہیں لگتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں چلی گئی۔ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں تجزیہ کار ائیر مارشل (ر)شاہد لطیف کا کہنا تھا کہ 'اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) اور ان کے قائد نواز شریف کی حکومت ہے اور یہ خود اپنی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ ان کے جانے سے تمام نظام مفلوج ہوگیا اور پاکستان بہت نیچے چلا گیا حالانکہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کا اپنا وزیراعظم موجود ہے اور ملک کے تمام انتظامات ان کے ہاتھ میں ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے ماہر قانون علی احمد کرد نے کہا کہ 'عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ اس وقت ملک میں صاف ستھرا سیاستدان کوئی نہیں، لوگوں کو اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ سوائے نواز شریف کے باقی سارے پاک صاف ہوگئے ہیں اور جس طرح ایک شخص ارد گرد گھیرا ڈال کر اسے کنارے کیا جارہا ہے وہ لوگوں کو پسند نہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 'جب عدلیہ سیاسی جماعتوں کی مدد اور ساتھ دینے پر مجبور ہوگئی ہو تو وہ عدلیہ نہیں رہی بلکہ بہت کمزور ادارہ بن گیا ہے۔

سینئر تجزیہ کاروں نے کہا کہ نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزارت کا موقع ملا، یہاں تک کہ پنجاب پر سب سے زیادہ حکومت مسلم لیگ (ن) نے کی، پھر بھی ایک فیصلہ ان کے خلاف آجانے سے انہوں نے ساری نعمتیں پس پشت ڈال دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 'مسلم لیگ(ن)کے قائد پر بالکل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے یہ کل اقتدار میں آئیں گے ان کا سارا انقلاب، مزاحمت اور بغاوت ہوا ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 'ووٹ کو عزت دو' سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے تاحیات نااہلی کے فیصلے پر کہا تھا کہ یہاں چور ڈاکو بھی تاحیات نااہل نہیں ہوتے لیکن کیا میرا جرم ان سب سے بڑا ہے، میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، کیا میرا جرم میرا نام محمد نواز شریف ہے۔۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اپنے اندر پوری تاریخ سموئے ہوئے ہے، افسوس کی بات ہے کہ جمہوریت آج تک ہمارے ملک میں قدم نہیں جما سکی، مہذب قومیں عوامی فیصلوں کا احترام کرتی ہیں اور ادارے اسے تسلیم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو حکمرانی کا حق سونپنا صرف عوام کا حق ہے، عوام کی رائے کو کس طرح بار بار کچلا گیا، عوام کے ووٹ کی طاقت کو کیوں کر عبرت کا نمونہ بنایا گیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ 70 برس تک ہم اس بیمار سوچ کا خاتمہ کیوں نہ کرسکے، ہماری عدلیہ مارشل لا کے سامنے کھڑی نہ ہوسکی، عدلیہ نے کبھی بھی وہ کردار ادا نہ کیا جو وہ سول حکومتوں کے دوران کرتی رہیں اور تمام آمروں کو آئین کی چھیر پھاڑ کی اجازت دے دی۔ان کا کہنا تھا کہ صرف 20 وزرا اعظم کا دور 38 برس ہے جبکہ آمروں کا دور 32 برس ہے اور کوئی ایک بھی منتخب وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکا۔

متعلقہ عنوان :