اسلام آباد ہائی کورٹ نے پونے دو سال سے لاپتہ دو بچیوں کی عدم بازیابی پر آئی جی اسلام آباد کو (آج )، پنجاب پولیس کے شعبہ کرائم کے سربراہ کو پیر کو طلب کر لیا

ایس پی صاحب اگر آپ کی ایک بھی بیٹی اس طرح لاپتہ ہو تو آپ کا کیا حال ہوگا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا استفسار

بدھ اپریل 16:00

اسلام آباد ۔18 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو بچیوں کی عدم بازیابی پر آئی جی اسلام آباد کو (آج )جمعرات جبکہ پنجاب پولیس کے شعبہ کرائم کے سربراہ کو پیر کو طلب کر لیا ہے ۔بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پونے دو سال سے لاپتہ سمعیہ اور ادیبہ کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔

(جاری ہے)

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی پولیس نے بچیوں کو ایک ماہ میں برآمد کرانے کا یقین دلایا تھا،کیوں نہ آئی جی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے، ایک سال سے بچیاں لاپتہ ہیں پولیس آج تک معاملے کی سمت کا تعین تک نہیں کر سکی، زمین سے نکالیں یاآسمان سے لائیں بچیاں بازیاب ہونی چاہئیں۔ ٖفاضل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ ایس پی صاحب آپ کی کتنی بیٹیاں ہیں اگر آپ کی ایک بھی بیٹی اس طرح لاپتہ ہو تو آپ کا کیا حال ہوگا۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو (آج) جمعرات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا جبکہ پنجاب پولیس کے شعبہ کرائم کے سربراہ کو بھی پیر کو طلب کر لیاہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔