مقبوضہ کشمیر میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے،

بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے متعدد طلبہ زخمی ہوگئے

بدھ اپریل 17:32

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں کٹھوعہ کی ننھی بچی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل میں ملوث مجرموں کوموت کی سزا دلوانے کے مطالبے کے حق میں طلبہ نے زبردست مظاہرے کئے ۔ مظاہرین پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے درجنوں طلباء و طالبات زخمی ہوگئیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق طلباء نے سرینگر ، گاندربل ، بڈگام ، شوپیاں، اسلام آباد ، کولگام ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ ، پلوامہ اور بارہمولہ کے اضلاع میں اس شرمناک واقعے کے خلاف احتجاجی مارچ کیا جس میں ضلع کٹھوعہ کے فرقہ پرست عناصر ملوث ہیں۔

بھارتی فوجیوں نے مظاہرین پر آنسو گیس اور فائرنگ سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے بیسیوں طلبہ زخمی ہو گئے ۔ کے پی روڈ ، گلشن آباد،لال چوک ، جنگلات منڈی ، آرن ، پلوامہ ، بمنہ اور دیگر علاقوںمیں خاص طورپر بڑے مظاہرے کئے گئے ۔

(جاری ہے)

زخمی طلباء کومختلف ہسپتالوں میں داخل کیاگیا جبکہ پیلٹ گن سے متاثر ہ طلباء کو سرینگر کے ہسپتالوں میں بھجوا دیا گیا ہے۔

آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی وجہ سے گورنمنٹ ڈگری کالج ترال کے پچاس سے زائد طلباء جن میں بیشتر طالبات شامل تھیں بے ہو ش ہو گئے۔ فوجیوںنے کالج کی متعدد گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔ مظاہرے میں شامل طلبہ اورفوجیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت کے بعد پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ میںانتظامیہ نے اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تعلیمی سرگرمیاںمعطل کر دیں۔

وکلاء ، تاجروں اور سول سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کے اراکین نے بھی ننھی بچی کی بے حرمتی اور قتل کے مقدمے کی سماعت تیزی سے مکمل کرنے کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند کشمیریوں کی حالت زار پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ نظربندوں کو جیل میںہراساں کیاجارہا ہے اور انہیں علاج معالجے سمیت تمام ضروری سہولتوں سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ حریت رہنمائوں کے وفود مزار شہداء عیدگاہ سرینگر گئے اور معروف آزادی پسند رہنماء ایس حمید وانی کو انکی بیسویوں برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔لندن میں دولت مشترکہ کے سربراہ اجلاس کے موقع پر کشمیریوں نے حق خودارادیت کے حق میں اور مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے برطانوی پارلیمنٹ کے باہر ایک گول میز کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔ حریت رہنمائوں سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، محمد یاسین ملک ، آسیہ اندرابی اور زمردہ حبیب نے کانفرنس سے سرینگر سے ٹیلی فونک خطاب کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس موقع پر برطانوی پارلیمنٹ میں موجود تھے۔