عمران خان نے 20 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کردیا

سینیٹ الیکشن میں ضمیرفروشوں کوشوکازنوٹس جاری کردیے ہیں،ان ارکان کے نام نیب کو بھی دیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ اپریل 17:42

عمران خان نے 20 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کردیا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 اپریل 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 20ارکان کوپارٹی سے نکالنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ضمیرفروشوں کوشوکاز نوٹس جاری کررہے ہیں،ان ارکان کے نام نیب کو بھی دیں گے۔انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے تین سال پہلے کہا اور تجویز دی کہ سینیٹ الیکشن میں پیسا لگتا ہے۔

سینیٹ الیکشن میں ہمیشہ بولی لگی ہے۔انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں 20ارکان نے پیسے لیے۔انہوں نے کہا کہ 60 لوگوں میں 20 لوگ ہیں۔ جن کوپارٹی سے نکال رہے ہیں۔ ان ارکان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔ ان ارکان کوصفائی کاموقع دیں گے۔اگر انہوں نے جواب نہ دیا توان کوفارغ کردیں گے۔ ان ارکان کے نام نیب کوبھی دیں گے۔ ووٹرز کے ساتھ منافقت اور غداری کرنے والوں کا ٹھکانہ جیل ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ کسی پارٹی نے آج تک ایسا کام یا ایسا فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ باقی جماعتوں کے لوگ بھی بکے ہیں ان کے نام بھی ہمارے پاس ہیں۔وعدہ کیا تھا کہ بکنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔اب دیگر جماعتیں ضمیر فروشوں کیخلاف کیا ایکشن لیں گی؟ ہم نے پہلا قدم اٹھایا ہے کیا باقی جماعتوں میں بھی جرات ہے؟ انہوں نے کہاکہ ان ارکان میں نرگس، دیناناز، فوزیہ بی بی ، نگینہ خان،سردارادریس، زاہد درانی،عبدالحق، عارف یوسف، نسیم حیات،امجد آفریدی،جاوید نسیم، فیصل زمان،قربان علی خان ، یسین خلیل،عبید اللہ یار، زاہداللہ، معراج ہمایوں، بابر سلیم، وجیہ الزمان اور سمیع اللہ زئی شامل ہیں۔

ضمیرفروشوں نے 4،4 کروڑ روپے لیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی نے ٹکٹ لینے کیلئے پیسا دیا توضائع ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ ووٹ کے تقدس کی بات کی جارہی ہے۔ہم نے ضمیر فروشوں کونکال دیا یہ ہوتا ہے ووٹ کا تقدس۔ نوازشریف کوبیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔۔عمران خان نے کہا کہ نوازشریف کی منی لانڈرنگ کوبچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔نوازشریف کے اتحادی ووٹ کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ان کے اتحادیوں کوپتا ہے کہ ان کی باری بھی آنے والی ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی جمہوریت میں کرپشن کی اجازت نہیں ہوتی جمہوریت میں ہرچیز کا جواب دینا پڑتا ہے۔