ضلع مظفرآباد ،ہٹیاں بالا اور باغ کے سنگم پر واقعہ گائوں کیٹکیر میں 7سالہ معصوم بچی سے جنسی زیادتی کی اطلاعات سوشل میڈیا پر وائرل ہو نے کے بعد آزاد کشمیر بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی

جنسی زیادتی کیخلاف رنگلہ بازار میں شٹر ڈائون ،سینکڑوںافراد نے ٹائر جلا کر احتجاجا روڈ بلاک کر دی معصوم بچی کو فوری انصاف فراہمی کا مطالبہ ‘بچی کے والدین اور دیگر ورثاء واقعہ سے انکار ی

بدھ اپریل 18:17

چکوٹھی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) ضلع مظفرآباد ،ہٹیاں بالا اور باغ کے سنگم پر واقعہ گائوں کیٹکیر میں سات سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اطلاعات سوشل میڈیا پر وائرل ہو نے کے بعد آزاد کشمیر بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی جنسی زیادتی کے خلاف رنگلہ بازار میں مکمل شٹر ڈائون ،سینکڑوںافراد نے ٹائر جلا کر احتجاجا روڈ بلاک کر دی معصوم بچی کو فوری انصاف فراہمی کا مطالبہ بچی کے والدین اور دیگر ورثاء واقعہ سے انکار ی ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے تین اضلاع ہٹیاں بالا،مظفرآباد اور باغ سے منسلک گائوں کیٹکیر میں چند روز قبل ایک سات سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اطلاع گذشتہ رات سوشل میڈیا پر وائرل ہو نے کے بعد بدھ کے روز ضلع باغ کے علاقے رنگلہ میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجا ٹائر جلا کر روڈ بلاک کرنے کے علاوہ تاجروں نے مکمل شٹر ڈائون کیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سات سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسکے والدین کو منہ بند رکھنے کی دھمکی دی گئی ہے جس وجہ سے اسکے والدین اور دیگر رشتہ دار خاموش ہیں لیکن عوام علاقہ اس ظلم کے خلاف کسی بھی صورت میں خاموش نہیں رہیں گے جب تک معصوم بچی کو انصاف نہیں ملتا اور واقعہ میں ملوث اصل درندہ اور اسکے ساتھیوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا عوام چین سے نہیں رہیں گے یاد رہے کہ اس گائوں کا پولیس اسٹیشن ضلع جہلم ویلی کے علاقے چکار سے منسلک ہے ایس پی جہلم ویلی کی ہدایت پر ڈی ایس پی ہٹیاں بالا مقصود عباسی اور تھانہ پولیس چکار کے اہلکار موقعہ پر موجود ہیں اور وہ اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں آخری اطلاعات کے موصول ہونے تک بچی کے والدین اور دیگر ورثاء اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیںبعض لوگوں کے مطابق بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن زیادتی نہیں کی گئی ہے جب تک پولیس معصوم بچی کو اپنی تحویل میں لیکر اسکا میڈیکل چیک اپ کروائے گی اس کے بعد ہی اصل حقائق منظر عام پر آسکتے ہیں آخری اطلاعات تک معصوم بچی ضلع راولاکوٹ کے علاقے میں موجود ہے اور اس سے زیادتی کے الزام میں ملوث نوجوان کو برادری جرگہ کے تحت پانچ سال کے لیے علاقہ بدر کر دیا گیا ہے دریں اثناء ایس پی ہٹیاں بالا چوہدری ذوالقرنین نے کہا ہے کہ رات گئے سوشل میڈیا کے زریعے کٹکیر واقعہ کا علم ہوا اسی وقت ایس ایچ او چکار کو تحقیقات کی ہدایت کر دی گئی تھی یہ علاقہ چکار اور دھیر کورٹ کے درمیان واقع ہے اس سے قبل نہ تو پولیس کو کسی نے اطلاع دی اور نہ ہی اس قسم کے کسی واقعہ کا پولیس کو علم تھا پولیس موقعہ پر پہنچ چکی ہے عوام مطمن رہیں اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہو گا تو ضرور اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے کہٹرے میں لائیں گے انھوں نے کہا کہ پولیس نے جب بچی کے تایا سے اس حوالہ سے رابطہ کیا تو ابتدائی طور پر اس نے واقعہ سے انکاری ظاہر کی ہے عوام صبر و تحمل سے کام لیں پولیس واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے اصل حقائق جلد عوام کے سامنے لائے گی اگر کسی نے بھی اس قسم کا فعل کیا ہو گا چاہے وہ کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو اسے قانون کا سامنا کر نا پڑے گاایس پی جہلم ویلی کے بعد ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا راجہ عمران شاہین نے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ بچی کو فوری طور پر پیش کیا جائے اور جو بھی اس واقعہ میں ملوث ہوا اسے جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا