انقلابی منشور کے ساتھ امن ترقی پارٹی میدان سیاست میں ،بانی و چیئرمین محمد فائق شاہ

امن ترقی پارٹی نے تمام مسائل کے حل کیلئے ایک ٹھوس اور جامع لائحہ عمل دے دیا بد قسمتی سے موجودہ سیاسی قوتیں مسائل حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر تنقید میں مصروف ہیں

بدھ اپریل 20:36

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) امن ترقی پارٹی کے چیئرمین محمد فائق شاہ نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے موجودہ سیاسی جماعتوں کا مقصد عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ صرف الزام تراشی اور منفی تنقید میں برتری حاصل کرنا ہے ، جوصرف اقتدار کیلئے کیا جا رہا ہے ملک اور عوام ان کی ترجیح نہیں ہے امن ترقی پارٹی نے ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اور لائحہ عمل بنایا ہے جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے تمام ریاستی اداروں کے سربراہوں ، وفاقی کابینہ ، وزیر اعظم،وزرائے اعلیٰ اور ماہرین پر مشتمل ایک بورڈ برائے حکمت و ایمانداری بنایاجائے، جس سے اقتدار کی رسہ کشی، اداروں کے درمیان تنائو اور کرپشن کا جڑ سے خاتمہ ہو اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا سویرا طلوع ہو، پالیسیوں کو تسلسل حاصل ہو ، بے روزگاری، نا انصافی اور ظلم کا خاتمہ ہو سکے ، بیرونی سرمایہ کاری ، معیشت میں بہتری، چھوٹی صنعتوں کا قیام، CPECکی جلد تکمیل، سڑکوں کا جال بچھانا ممکن ہو سکے، نوجوانوں، خواتین ، بچوں ، معذوروں، بیوائوں،خواجہ سرائوں اور محکوم طبقات کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں ، سستا اور فوری انصاف میسر ہو، روایتی تھانہ کلچرکا خاتمہ ہو، غریبوں کو مفت قانونی معاونت حاصل ہو، ہر بچہ تعلیم حاصل کرے، جدید ہسپتالوں کا نیٹ ورک بنایا جا سکے، اخلاقی اور جمہوری اقدار پیدا ہو سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس بورڈ کے ذریعے ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں گی ذراعت میں انقلابی اقدامات کے ذریعے غریب کسانوں ،بے روزگار نوجوانوں میں مفت اراضی تقسیم کی جائے ، وزرات اخلاق، وزارت روزگار، وزارت انویسٹمنٹ بنائی جائیں گی۔ امن ، توانائی اور دفاع میں پاکستان کو لازوال بنانا ہوگا ، ڈکیتی،،راہ زنی، اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم کا خاتمہ۔

اقلیتوں کو تحفظ اور مذہبی اہم آہنگی اور نظام صلوٰة قائم کیا جائے گا،پردے اور حیا کو فروغ دیا جائے گا۔ ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور غریبوں سے ٹیکس کا بوجھ کم کرنا بھی اس بورڈ کے ذریعے ممکن ہو سکے گا ۔ ملک عظیم اسلامی فلاحی اور دفاعی مملکت بن کر عالمی سپر پاور بنے گا جبکہ پاکستان دنیا بھر کیلئے معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔