چیف جسٹس دوران احتجاج حافظ حکیم الیاس کے قتل کا نوٹس لیں،مفتی محمدنعیم

جامعہ بنوریہ میں استاد الحدیث مولانا سلیمان کے بھائی کے قتل پرمفتی محمدنعیم کی زیر صدارت تعزیتی اجلاس

بدھ اپریل 20:38

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے جامعہ کے استاد الحدیث مولانا سلیمان کے بھائی حافظ حکیم الیاس کے احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ سے شہید ہونے پر غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ معصوم بچی کے قتل کیخلاف عوامی ردعمل اور احتجاج پر قانون کے رکھوالوں کی فائرنگ کا واقعہ افسوسناک ہے ، چیف جسٹس دیگر واقعات کی طرح احتجاج میںپولیس فائرنگ اورحافظ حکیم الیاس کے قتل کا نوٹس لیں۔

بدھ کو جامعہ بنوریہ عالمیہ میں استاد الحدیث مولانا سلیمان کے بھائی کے قتل پررئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم کی زیر صدارت تعزیتی اجلاس کا منعقد کیا گیا جس میں ناظم تعلیمات مولانا عبدالحمید خان غوری ،شیخ الحدیث مولانا عزیز الرحمن ہزاروی،مولانا عبدالحمد تونسوی ، مولانا نعمان نعیم ، مولانا غلام رسول، مولانا عزیز الرحمن عظیمی،مولاناسیف اللہ ربانی ، مفتی عبدالرحمن سمیت دویگر علماء کرام نے شرکت اور اجلاس میں علما،،ْء کرام نے حافظ حکیم الیاس کے قتل کی شدید الفاظ میں مذت کرتے ہوئے مولانا سلیمان اور شہید کے دیگر لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہاکہ معصوم رابعہ کو درندگی کا نشانہ بنانے والے مجرموں کو گرفتار ی کے بجائے عوامی احتجاج پرپولیس کی شیلنگ اور فائرنگ سمجھ سے بالا تر ہے ، پولیس نے احتجاج کو پرامن رکھنے کے بجائے شیلنگ کرکے عوام کو بھڑکایا گیا جس کے نتیجے میں حافظ حکیم الیاس کی قیمتی جان گئی ، انہوںنے کہاکہ عوامی احتجاج کو ہنگامہ آرائی میں بدلنے والے افراد کیخلاف کاروائی کرکے فی الفور حافظ حکیم الیاس کے قاتلوں کو گرفتار کیاجائے ، مفتی محمدنعیم نے اپیل کی ہے چیف جسٹس احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ سے حافظ حکیم کے قتل کا فی الفور نوٹس لے کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں ۔