حکومت نے گلگت بلتستان کے حق حا کمیت کے خواب کو شر مندہ تعبیر کر دکھایا ہے، شمس میر

جمعرات اپریل 13:08

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر نے کہا ہے کہ حکومت نے گلگت بلتستان کے حق حا کمیت کے خواب کو شر مندہ تعبیر کر دکھایا ہے اور گلگت بلتستان میں انتقال اختیار ات کا پہلا عظیم الشان معرکہ سر کرلیا ہے جس کے تحت حکومت گلگت بلتستان اب براہ راست ایک ارب روپے کے تر قیاتی منصوبوں کی منظوری دے سکے گی اس سلسلے میں پلاننگ کمیشن نے با قاعدہ نوٹفیکیشن بھی جاری کردیا۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ 2009-2015 تک گلگت بلتستان کے پاس تر قیاتی امور میں صرف 20کروڑ روپے کے اختیارات تھے ۔ 2015ء میں گلگت بلتستان میں وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت جب قائم ہوئی تو وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اور ان کی حکومت نے گلگت بلتستان میں سیاسی اختیارات کے ساتھ مالیاتی اختیارات کے لئے بھی جدوجہد کی جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان سے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے جہاں گلگت بلتستان کے اختیار سیاسی نظام کے لئے اصلاحاتی کام شروع کیا وہاں گلگت بلتستان کومالیاتی اختیارات تفویض کرنے کے بھی احکامات صادر کئے۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم خاقان عباسی نے گلگت بلتستان کو مالی اختیارات کی منتقلی کی باقاعدہ منظوری دی ہے اور وفاقی پلاننگ کمیشن نے نوٹفیکیشن جاری کردیا ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سیاسی حکومت نے انتقال اختیارات کے مطالبے میں تر قیاتی گرانٹ کے وسیع اختیارات کا بھی مطالبہ کیا تھا جو آج اللہ کے فضل سے منظور ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ انتقال اختیارات کا جو ڈرافٹ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے تیار کیا تھا اس ڈرافٹ کے سیاسی اصلاحات اور مالی اصلاحات کی حمایت آزاد کشمیر اور فاٹا نے بھی کی اور گلگت بلتستان کے مالیاتی اختیارات کی منتقلی کے مثالی مرحلے پر وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر اور فاٹا کے لئے بھی انہی خطوط پر مالیاتی اختیارات منتقل کئے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت ،حکومت آزاد کشمیر اور فاٹا نے گلگت بلتستان کے سیاسی اور مالیاتی ڈرافٹ کو ماڈل قرار دیا تھا جو وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی مد برانہ سیاسی قیادت کا جہاں منہ بولتا ثبوت ہے وہاں گلگت بلتستان کی عوام کے لئے بھی اعلیٰ اعزاز کی مثال ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت ،گلگت بلتستان کو با اختیار صوبہ بنانے کیلئے بھر پور اقدامات کررہی ہے اور مالیاتی اختیارات کی منتقلی ایک عظیم کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت جلد گلگت بلتستان کے سیاسی اصلاحات کا اعلان بھی کردیا جائیگا جس کے تحت گلگت بلتستان ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سیاسی ، سماجی اور معاشی شعبوںمیں مکمل بااختیار بن جائیگا ۔ قانون سازی اور ادارہ جاتی اختیارات کے با قاعدہ صوبائی سیٹ اپ میں گلگت بلتستان ملک کا ایک عظیم صوبہ ہوگا ۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اور ان کے حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال میں گلگت بلتستان میں سماجی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے ساتھ تعمیر و ترقی کے میگا منصوبوں کے حصول کو ممکن بنایا ہے ۔

آج سکردو روڑ ، کینسر ہسپتال ، بلتستان یونیورسٹی ، امراض قلب کا ہسپتال ، سول ہسپتال کی تعمیر ، ویسٹ منیجمنٹ ، گیس کی فراہمی کا منصوبہ ، میڈیکل ، انجینئر نگ اور ٹیکنیکل کالجز ، یونیورسٹی کیمپسس کا قیام ، واٹر سپلائی کے منصوبے سمیت کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ بہت جلد ہینزل پاور پراجیکٹ ، شغر تھنگ ، نلتر روڑ اور دیگر منصوبوں پر بھی کام کا آغاز ہو جائیگا ۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن )کی صوبائی حکومت نے اپنی بساط سے بڑ ھ کر گلگت بلتستان کو ایک ماڈل صوبہ بنانے کیلئے حقیقی اور عملی اقدامات کیے ہیں لیکن چند مٹھی بھر تخریبی عناصر نان ایشوز پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کررہے ہیں جسے گلگت بلتستان کی غیور عوام ناکام بنائے گی ۔