سرمایہ کاری پر طویل مدت کیلئے ٹیکس کی رعائت کم از کم دس سال کی جائے ، برونو اولیرہوئک

خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ کیا جائے، ترجیحات پر ٹیکس اصلاحات کمیشن رپورٹ کا نفاذکیا جائے، کم ازکم ٹیکس اورمتبادل ٹیکس نظام کا خاتمہ کیا جائے او آئی سی سی آئی کے صدر کا نئے مالی سال کی بجٹ تجاویز سے متعلق خصوصی انٹرویو

جمعرات اپریل 14:08

سرمایہ کاری پر طویل مدت کیلئے ٹیکس کی رعائت کم از کم دس سال کی جائے ، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) اوورسیز انوسٹرزچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(او آئی سی سی آئی ) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے سرمایہ کاری پر طویل مدت کیلئے ٹیکس کی رعائت کم از کم دس سال کی جائے خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ کیا جائے ترجیحات پر ٹیکس اصلاحات کمیشن رپورٹ کا نفاذکیا جائے۔

صوبوں اور ایف بی آر کے مابین ٹیکس کے معاملات بروقت حل کئے جائیں کم ازکم ٹیکس اورمتبادل ٹیکس نظام کا خاتمہ کیا جائے ایک خصوصی انٹرویو میں او آئی سی سی آئی کے صدر برونو اولیرہوئک نے کہا کہ ملک میں غیر یقینی سیاسی اور کاروبار ی ماحول کے باوجود او آئی سی سی آئی کے ممبران میں سے ایک معروف بین الاقوامی ایف ایم سی جی کمپنی نے پاکستان میں مزید 120ملین ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی معیشت میں بڑی براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے امکانات کا واضح اشارہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کیلئے ایف بی آر اور صوبائی ریونیو حکام کو نہایت جامع ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر وعدہ کے مطابق 3-4فیصد سپر ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 25فیصد کی سطح سے کم کرکے 22فیصد کی سطح پر لائی جائے۔ پورے پاکستان میں سیلز ٹیکس کوایک جیسی شرح پر لایا جائے ابتدائی طور پر سندھ کی طرح13فیصد پر پھر بتدریج10فیصد تک کی سطح پر لایا جائے۔

غیر معمولی منافع پر ٹیکس ، بونس حصص پر ٹیکس جیسی شرائط کا خاتمہ کیا جائے۔ خدمات کے شعبے سمیت ایف ڈی آئی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ صوبوں اور ایف بی آر کے مابین ٹیکس کے معاملات بروقت حل کئے جائیں۔ کم ازکم ٹیکس اورمتبادل ٹیکس نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ سرمایہ کاری پر طویل مدت کیلئے ٹیکس کی رعائت کم از کم دس سال ہونی چاہیئے۔ خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ کیا جائے اورترجیحات پر ٹیکس اصلاحات کمیشن رپورٹ کا نفاذکیا جائے۔

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر بات چیت کرتے ہوئے او آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ حالیہ برسوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جی ڈی پی کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔پاکستانی حکام کو سنجیدگی سے ان عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جن پر عمل کرکے ویت نام، انڈونیشیا، تھائی لینڈ،، ملائیشیا جیسے علاقائی ممالک کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہو ا تاکہ پاکستان میں پالیسی کو نئے سرے سے آراستہ کرکے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں مینوفیکچرنگ، روزگاراور برآمد کو بڑھانے اور پوری دنیا سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے مختلف معاملات پر ترجیجی بنیادوں پر ایکشن کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتی سطح پر ادارہ جاتی فورم کی اشد ضرورت ہے جہاں سرمایہ کار اپنے مسائل کو اٹھاسکیں۔او آئی سی سی آئی فورم تشکیل دینے اوراس کو مینج کرنے کیلئے رضاکارانہ طور پر تیا رہے۔

معیشت کے مختلف سیگمنٹس میں حاصل کردہ ترقی کے اہداف ، ملکی انڈسٹری میں سرمایہ کاروں کیلئے دستیاب مواقعوں، انفرااسٹرکچر اور تجارت کے ذریعے ملک کے بارے میں منفی تاثر کو ختم کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ، سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے پاکستان کی ورلڈ بینک کی ایز آف ڈوئنگ بزنس میں کمزور رینکنگ کو بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں۔

ٹیکسیشن سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل، ٹیکس ریفنڈز، گردشی قرضے جیسے مسائل کو فوراً حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ایجنسیز کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن ٹیکسیشن کے شعبے اور فوڈ اور فارما سیکٹرز کے اسٹینڈرڈزقائم کرنے کیلئے بہت اہم ہے۔ قابلِ عمل، شفاف اور مستقل پالیسیاں تشکیل اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر او آئی سی سی آئی کے ممبران اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملکی معیشت کمزور ہے اور بہت سے اقدامات خاص طور پر اوآئی سی سی آئی کی جانب سے تجویز کردہ ٹیکس کے معاملات میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

سی پیک سمیت انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ پاکستا ن کی مثبت جغرافیائی پروفائل اور بہتر پبلک پرائیوٹ شراکت داری کی وجہ سے ملک اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے اگلے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔ اوآئی سی سی آئی اور اس کے ممبران اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کوہروقت اپنا تعاون پیش کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔