یونیورسٹی آف سرگودھا سب کیمپس بھکر میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

جمعرات اپریل 14:24

بھکر۔19 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) یونیورسٹی آف سرگودھا سب کیمپس بھکر کے زیر اہتمام دو روزہ تربیتی ورکشاپ بعنوان ’’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی تربیت ‘‘کا اہتمام کیا گیا ۔ورکشاپ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد ، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے تعاون سے منعقد کی گئی ۔ ورکشاپ کا مقصد بہترین ٹیچنگ کے ذریعے نوجوانوں بالخصوص طلباء و طالبات کی شخصیت میں نکھار لانا، عمدہ تربیت اور بہتری تھا۔

بین الاقوامی معیار کی اس ورکشاپ میں عالمی شہرت یافتہ ماہر اساتذہ ،محققین اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے اور قابل و محنتی نوجوان اپنے ذہنوں میں نشانِ منزل کو تازہ کرتے ہوئے وطن عزیز میں معاشی ومعاشرتی انقلاب برپا کرسکتے ہیں ،ان ساٹھ فیصد نوجوانوں کی اگر بہتر طریقے سے تعلیمی تربیت کی جائے تو پاکستانی قوم جلد دنیا کی صفِ اوّل کی اقوام میں شامل ہو جائے گی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گلو بلائزیشن کے اس دور میں پاکستان کانوجوانوں کا ملک ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ۔وائس چانسلر نے کہا کہ اپنے اعلیٰ مقاصد کو حاصل کرنے ،آگے بڑھنے اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لئے ہمارے نوجوانوں با لخصوص طلباء وطالبات کو سخت محنت ،مستقل مزاجی اور مثبت سوچ سے کام لینا ہو گا اور نئے نظریات کو سامنے لانا ہو گا۔

بین الاقوامی ورکشاپ سے یونان سے آئے ہوئے ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر اریسٹیڈیزنے کہا کہ مہارت اور جدید طریقہ کار استعمال کئے بغیر ہم طالب علموں کو بہتر طریقے سے تعلیم نہیں دے سکتے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دن بہ دن تعلیمی معیار بہتر ہو رہا ہے جس کی وجہ یہاں کے لوگوں کا علمی لگائو اور مثبت سوچ ہے۔ امریکہ سے آئی ہوئی ماہر تعلیم گلین رہورڈزنے کہا کہ کسی بھی طالب علم کی تربیت میں استاد کی قائدانہ صلاحیتیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سب کیمپس بھکر ڈاکٹر ظفرا قبال نے کہا کہ تعلیم اور تربیت دونوں لازم وملزوم ہیں جس کے بغیر ایک پائیدار ترقی یافتہ اور فلاحی معاشرے کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ طالب علموں کے لئے بے شمار خوبیوں کا ہونا انتہائی ضروری ہے ۔