عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیدی

چوہدری نثار نے اس خاتون کے آگے جھکنے سے انکار کیا جس کی صرف نوازشریف کی بیٹی کے سوا کوئی حیثیت نہیں سینیٹ انتخابات میں مجھے ایک سینیٹر بنانے کیلئے 45 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی ، جس کا مطلب ہے دیگر رہنمائوں کو بھی پیشکش آئی ہوگی ووٹ بیچنے والے 20لوگوں کو موقع دیا ہے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر صفائی دیں اگر یہ ہمیں مطمئن نہ کرسکے تو ہم ان کے نام نیب میں دینگے چیف جسٹس عوام کے مسائل پر کام کر رہے ہیں انہیں دیگر صوبوں سے خیبرپختونخوا کا موازنہ کرنا چاہیے اور عوام سے پوچھنا چاہیے کہ 5 سال پہلے کیا صورتحال تھی‘ تحریک انصاف کے چیئرمین کی میڈیا سے گفتگو

جمعرات اپریل 19:03

عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار کو پارٹی میں شمولیت ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری نثار نے اس خاتون کے آگے جھکنے سے انکار کیا جس کی صرف نوازشریف کی بیٹی کے سوا کوئی حیثیت نہیں، سینیٹ انتخابات میں مجھے ایک سینیٹر بنانے کے لیے 45 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ دیگر رہنمائوں کو بھی ایسی پیشکش آئی ہوگی،،ووٹ بیچنے والوں سے متعلق جو فیصلہ کیا وہ تفتیش کی بنا پر تھا، 20لوگوں کو موقع دیا ہے کہ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر صفائی دیں اگر یہ ہمیں مطمئن نہ کرسکے تو ہم ان کے نام نیب میں دیں گے،،چیف جسٹس عوام کے مسائل پر کام کر رہے ہیں لیکن انہیں دیگر صوبوں سے خیبرپختونخوا کا موازنہ کرنا چاہیے اور عوام سے پوچھنا چاہیے کہ 5 سال پہلے کیا صورتحال تھی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ پارٹی میں بکنے والے ارکان کے معاملے پر جو لوگ آواز اٹھا رہے ہیں وہ پہلے یہ بتائیں کہ 30 سال سے جو سینیٹ انتخابات میں ایم پی ایز فروخت ہو رہے تھے اس پر کو خاموش کیوں تھے۔سب کو معلوم تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ایم پی ایز اور ووٹ فروخت ہوتے ہیں لیکن سب جماعتوں کے سربراہ خاموش بیٹھے رہے۔

2015ء میں جب سینیٹ کے انتخابات ہوئے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ اس نظام کو تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ یہ کرپشن کا موقع فراہم کرتا ہے اور ایم پی ایز کی قیمتی لگائی جاتی ہیں۔ہم نے پارلیمان کی انتخابی کمیٹی میں بھی اس بات کو رکھا تھا کہ نظام کو تبدیل کیا جائے لیکن سب نے اسے مسترد کردیا۔نظام تبدیل نہ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ان سب کو اس بارے میں معلوم تھا اور یہ پیسہ سب تک جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ہے اور میں دوسری پارٹیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ بکنے والے ارکان اسمبلی کے نام سامنے لائیں ،ہم نے ضمیر بیچنے والے اپنے ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں اگر یہ ارکان ہمیں مطمئن نہ کرسکے تو نیب سے ان کے خلاف ایکشن لینے کا کہیں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ مجھے ایک سینیٹر کو منتخب کرانے کے لئے 45 کروڑ روپے کی آفر ہوئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب طاقتور اور پسے ہوئے طبقات کے لئے دو نہیں بلکہ ایک ہی قانون چلے گا جب کہ امیر اورغریب کے لئے بھی دو نہیں ایک ہی پاکستان ہوگا۔ نگراں حکومت کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ظلم کیا ہے کیونکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ نگراں حکومت، الیکشن کمیشن اور نیب کا سربراہ بھی یہ مل کر بنائیں گی۔جب یہ دونوں جماعتیں، الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کے ساتھ مک مکا کر کے کام کریں گی تو اس کا مطلب غیر جانبدار نظام نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے حوالے سے تمام جماعتوں نے کہا کہ اس میں دھاندلی ہوئی کیونکہ نگراں حکومت صاف اور شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوگئی تھی اور اب بھی وہی معاملے کو دہرایا جارہا۔اگر ہم واقعی صاف اور شفاف انتخابات کرانا چاہتے ہیں تو نگراں حکومت کا غیر جانبدار سیٹ اپ آنا چاہیے۔29اپریل کو لاہور میں مینار پاکستان پر جلسے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ہم اس جلسے میں چوہدری نثار کو شرکت کی دعوت دیں گے کیونکہ وہ میرے پرانے دوست بھی ہیں ان سے متعلق سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ایک میرے دوست نے غیرت دکھائی اور ایسی خاتون جس کی صرف نوازشریف کی بیٹی کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں اس کے سامنے جھک کر کھڑا ہونے سے انکار کیا، اس کا آرڈر نہ لینے پر چوہدری نثار کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں۔

ہم اس جلسے میں نوجوانوں اور ملک کے عوام کو نئے پاکستان کے بارے میں بتائیں گے۔۔چیف جسٹس کے دورہ پشاور کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معزز جج عوام کے مسائل پر کام کر رہے ہیں لیکن انہیں دیگر صوبوں سے خیبرپختونخوا کا موازنہ کرنا چاہیے اور عوام سے پوچھنا چاہیے کہ 5 سال پہلے کیا صورتحال تھی۔