وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر پولینڈ کے دارلحکومت وارسا پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

خرم دستگیر کی پولش ہم منصب سے ملاقات، دفاعی تعاون، خطے میں سلامتی کی تازہ ترین صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال

جمعرات اپریل 20:23

وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر پولینڈ کے دارلحکومت وارسا پہنچ گئے، پرتپاک ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے پولینڈ کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی جس میں دفاعی تعاون، خطے میں سلامتی کی تازہ ترین صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ جمعرات کو اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان پولینڈ کے وزیر برائے قومی دفاع کی دعوت پر پولینڈ کے دارلحکومت وارسا پہنچے تو پولینڈ کے اعلیٰ احکام اور پاکستان کے سفیر نے وزیر دفاع خرم دستگیر کا پرتباک استقبال کیا۔

پولش وزارت دفاع پہنچے پر وزیر دفاع ماری سوزبلاسزیزک نے خرم دستگیرکا استقبال کیا اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے ۔وزیر دفاع کو پولینڈ کی مسلح افواج کی تینوں سروسز کے دستوں نے گارڈآف آنرپیش کیا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں دونوں وزراء نے ون آن ون ملاقات کی جس کے بعد وفود کی سطح کے مذاکرات ہوئے جوکہ پولینڈ کے وزیر دفاع کی طرف سے دیئے گئے ظہرانہ تک جاری رہے ۔

دونوں اطراف نے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان موجودہ دفاعی تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور ان تعلقات کو مزید فروغ دینے بارے مختلف آئیڈیاز کے بارے میں بات چیت کی۔انہوں نے اپنے اپنے متعلقہ خطوں میں سلامتی کی تازہ ترین صورتحال اور اہم علاقائی امور کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ بلاسزیزک نے پاکستانی وزیر دفاع کا پرتپاک استقبال کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 1942-45 میں کراچی میں 30 ہزار پولش پناہ گزینوں کو پناہ دی تھی اس لئے پولینڈ پاکستان کیساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور ان تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

انجینئر خرم دستگیر خان نے پاکستان ایئرفورس کی تشکیل اور ترقی میں پولینڈ کے پائلٹوں کے کردار کا ذکر کیا اور خاص طور پرتر وویکز کے کردار کو اجاگر کیا جنہیں پاکستان ایئرفورس میں ایئرکموڈور کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی اور انہوں نے بعد ازاں پاکستان میں خلائی سائنسز کے ادارہ سپارکو کے قیام میں بھی مدد کی۔انجینئر خرم دستگیر خان نے پولینڈ کے اعلیٰ حکام کو پاکستان میں اقتصادی ترقی، جمہوری استحکام اور انسداد دہشت گردی میں بڑی کامیابیوں کے بارے میں بریف کیا۔

انہوں نے پاکستان کے سیکیوٹری پس منظر، افغانستان اور وسیع تر خطہ میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ پولینڈ کے وزیر دفاع ماری یوسز بلاسنریزک نے وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر کی طرف سے پاکستان کے دورہ کی دعوت بھی قبول کر لی اور کہا کہ دونوں ممالک کی طے کردہ مناسب تاریخوں میں وہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انجینئر خرم دستگیر خان نے بعدازاں نامعلوم سپاہیوں کے مقبرہ پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور وارسا میں قائم عجائب گھر کا دورہ کیا۔