سینیٹ انتخابات میں ساز ش کے تحت مجھ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈلوایاگیا، وجیہہ الدین خان

پی ٹی آئی کے ریجنل صدر زرگل خان نے کہا وزیراعلیٰ نے ان کو ووٹ دیا ہے آپ بھی دیں، بعد میں پتہ چلا امیدوار پیپلز پارٹی کا تھا،رکن خیبر پختونخوا اسمبلی ووٹ پول کرنا سب سے بڑی غلطی تھی ،چیئرمین پی ٹی آئی نے سنے بغیر نوٹس جاری کیا،جن لوگوں کو عوام نے مسترد کیا انہی کو عمران خان نے سینے سے لگایا،عمران خان سیاستدان نہیں ،صرف سلیبرٹی ہیں،کھلاڑی کے علاوہ اُن کی کوئی پہچان نہیں تھی، اکبر ایس بابر نے اپنی پرانی کرولا گاڑی میںگھما کر مشہور کیا،پرویز خٹک کے پاس کوئی وژن نہیں ،وہ نواز شریف کی طرح حکومت کے آخری مہینے میں سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں،پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات اپریل 20:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی وجیہہ الدین خان نے کہا ہے کہ سینٹ انتخابات میں سازش کے تحت مجھ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈلویا گیا،پی ٹی آئی کے ریجنل صدر زرگل خان نے کہا وزیراعلیٰ نے ان کو ووٹ دیا ہے آپ بھی دیں، بعد میں پتہ چلا امیدوار پیپلز پارٹی کا تھا،پارٹی سے شایدمعاملات پہلے سے طے شدہ تھے، پی ٹی آئی کے ٹکٹس راتوںپارٹی میں شامل ہونے والوں کو دیں گئیں،،تھائی لینڈ میں ہونے کی وجہ سے امیدواروں کے بارے میں علم نہیں تھا،،سینیٹ الیکشن میں ووٹ پول کرنا سب سے بڑی غلطی تھی۔

جمعرات کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وجیہہ الدین خان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے پانچ منٹ ملاقات کر کے صفائی کا موقع دینے کی درخواست کی مگر سنے بغیر شوکاز نوٹس جاری کیا، اب نوٹس کا عدالت میں جواب دیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ عمران خان کا ساتھ دیاجن لوگوں کو عوام نے مسترد کردیا انہی لوگوں کو عمران خان نے اپنے سینے سے لگایا۔

انہوں نے کہاکہ پی آئی میں شامل ہو کر عمران خان کو سازشی ٹیم سے بچانا چاہتا تھا،،عمران خان سیاستدان نہیں ،صرف سلیبرٹی ہیں،کھلاڑی کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی کی کوئی پہچان نہ تھی اکبر ایس بابر نے اپنے کرولا گاڑی میں گھما کر مشہور کیا، آج نظریے کی ہار اور پیسہ کی جیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسٹ میں موجود دس لوگوں نے تو باضابطہ پی ٹی آئی میں شمولیت بھی نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ ، ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کی سیٹیں چلی گئیں، آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آیا، عوام کو بتائیں پیپلز پارٹی سے کتنے پیسے لئی ا۔نہوں نے کہا کہ سارے ادارے وزیراعلیٰ کے ماتحت ہیں، اکیس سالہ سیاسی زندگی میں ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اگر جلسہ میں بھی کوئی کان میں کوئی بات کہے تو بغیر تحقیق کے کہہ دیتے ہیں،بنی گالا کے دروازے پانچ پانچ کروڑ کی گاڑیوں میں آنے والوں کیلئے کھلے ہیں، عام لوگوں کیلئے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ہمیشہ کہا کرتا تھا پارٹی میں شامل ہونے والوں کا ماضی ضرور دیکھیں۔انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کے پاس کوئی وژن نہیں، وہ اچھا سیاسی کھلاڑی ہے،جھوٹ و فریب میں ماہر ، نواز شریف کی طرح حکومت کے آخری مہینے میں شہید ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے ملاقات کیلئے چار، چار ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے،آج پارٹی مکمل طور پر سازشی ٹولہ کے ہاتھوں یرغمال ہے۔

انہوں نے کہا کہ 20 لوگ پرویز خٹک سے اصولی اختلاف رکھنے والے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب نظریاتی لوگ پارٹی میں کہیں دکھائی نہیں دیتے ،جسٹس (ر) وجیہہ الدین، فوزیہ قصوری،، اکبر ایس بابر، تسنیم نورانی، عابد خان ایڈوکیٹ،داوڑ کنڈی جیسے اصولی تنقید کی بناء پر پارٹی سے نکالے گئے۔