سکھر،سالانہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے جی ڈی پی کا پانچ فیصدحصہ مختص کیا جائے، محمدعامر

جمعرات اپریل 21:03

سکھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ محمدعامر نے کہا ہے کہ سالانہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے جی ڈی پی کا پانچ فیصدحصہ مختص کیا جائے۔ جبکہ سندھ اسمبلی کاپاس کردہ یونیورسٹیزایکٹ کی باضابطہ منسوخی کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہاراسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ محمدعامر نے سندھ کاپانچ روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد سکھر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ان کے ہمراہ اسلامی جمعیت طلبہ صوبہ سندھ کے ناظم اسدعلی قریشی،سیکریٹری جمعیت صدام حسین سہندڑو،ناظم جمعیت سکھر مرزانعمان بیگ اور سیکریٹری اطلات ایازعلی عمرانی بھی موجود تھے۔""تعلیم کوپانچ دو""بجٹ مہم کے حوالے سے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ محمدعامر کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں حکومت مجموعی پیداوار کاپانچ فیصدحصہ تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے مختص کرے۔

(جاری ہے)

اور بجٹ کا 25فیصدحصہ تعلیمی ترقی کے لیے خرچ کیاجائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ آئندہ بجٹ میںتعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کرنے اور فنڈزکو بہترطور پر استعمال کرنے کے لیے ""تعلیم کوپانچ دو"مہم چلارہی ہے جوپورے ملک میں بھرپوراندازمیں جاری ہے۔۔پاکستان تعلیم پر سب سے کم بجٹ مختص کرنے والا ملک ہے ،جو بجٹ مختص کیاجارہا ہے اس کا استعمال بھی شفاف نہیںناظم اعلیٰ کا مزیدکہناتھا کہ کم بجٹ کہ وجہ سے تعلیمی اداروں کی حالت قابلِ رحم ہے۔

جامعات میں جدید آلات پرمشتمل لیبارٹریز، جدید ای -لائیبریریز،کمپیوٹر لیب،اورمناسب فرنیچر فراہم کیا جائے ۔جبکہ سندھ کی جامعات کو ایک عرصے سے ٹرانسپورٹ کی کمی کا سامنا ہے ۔جامعات کے علاوہ سندھ کے اسکولز کی حالت اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے جہاں یا تو اسکولز بند پڑے ہیں یا کہیں بچے چھت سے بھی محروم ہیں۔۔الیکشن قریب ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو تعلیم کے حوالے سے واضع منشور عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔

اسلامی جمعیت طلبہ اس مہم کے اگلے مرحلے میں عوام اورطلبہ میں تعلیم دو۔۔ووٹ لو کے سلوگن کے ساتھ اپنی آگاہی مہم کا آغازکرے گی۔محمدعامرکا مزیدکہنا تھا کہ جب تک ہم اپنی درسگاہوں سے مخلص نہیں ہوں تب تک ہم ترقی یافتہ اقوام میں خود کو کھڑا نہیں کرسکتے۔محمدعامر کا مزیدکہنا تھا کہ اس بل کے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ نے پھرپورمہم چلائی ہے۔اس بل کو فوری واپس کرکے اس حکومتی سطح پر باضابطہ بل کی منسوخی کا اعلان کیا جائے۔