کوئٹہ،بلوچستان ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت

الیکشن کمیشن کا مزید انتظار نہیں کر سکتے، الیکشن کمیشن کے نمائندے کی سر زنش

جمعرات اپریل 23:33

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بلوچستان ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف درخواست پر جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل بینچ نے سماعت کی سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کی سر زنش کر تے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا مزید انتظار نہیں کر سکتے الیکشن کمیشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ اگلی پیشی پر وکیل حاضر ہو جائے گا استغا ثہ کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت کی گئی درخواست گزار میر سرفراز بگٹی نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلی کے پاس اختیار ہوگا جس کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ کے اکیلے اختیار نہیں ہے وزیر داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ میں سب دیکھ کر بتائونگا اور ساری تفصیلات دونگا جسٹس کامران ملا خیل نے استفسار کیا کہ ریکوڈک میں 11 ارب روپے جرمانہ ہے وہ آپ کہاں سے دیں گے وزیر داخلہ نے بتایا کہ سر یہ معاملات میری معلومات میں نہیں ہیں جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ جو سرکاری ملازمین ہیں وہ خود ڈیوٹیز نہیں دے رہے انہیں واپس بلائیں صوبے کا المیہ یہ ہے کہ وزیر خود کو حلقے کا زمہ دار سمجھتا ہے کیا آپ نے ہر ضلع کا دورہ کیا ہے وزیرداخلہ نے عدالت کو بتایا کہ میں نے 99 فیصد کا دورہ کیا ہے اور باقی میں بھی جلد جا ئوں گاجسٹس کامران ملا خیل نے استفسار کیا کہ اگر کوئی رکن فنڈز میں کرپشن کرے تو آپ اس پر کیا کرسکتے ہیں جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ یہ بہتر نہیں کہ آپ لوگوں کو نوکریاں دینے کی بجائے ادارے تیار کریں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے چینی کمپنی کے ساتھ ایم او یو سائن کیا ہے الیکشن کمیشن کے نمائندے عدالت کو بتایا کہ ہمارا وکیل آئندہ سماعت پر پیش ہوجائے گا عدنان مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وقت کم ہے یو معاملہ لٹک جائے گا جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ ان پوسٹوں کا اعلان کب کیا تھا ایڈووکیٹ جنرل رئوف عطاء نے عدالت کو بتایا کہ یہ سابق بجٹ میں منظور ہوئی تھی یہ قانونی ہے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ یہ 2017 سے منظور ہوئی تھیں تو آپ تب سے کیا کررہے تھے صوبائی وزیر داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ میں ساڑھے چار سال سے رکن اسمبلی ہوں جسٹس جمال مندوخیل نے سرفراز بگٹی سے مقاملہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ بڑی خوشی ہوئی کہ آپ کو اب خیال آیاجسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ جس تعداد میں بھرتیاں کررہے ہیں تنخواہ اور پینشن 5 سال بعد دے سکیں گے وزیر داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ آپکی تشویش درست ہے ہم نے سارا پلان تیار کررکھا ہے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس ذریعہ آمدنی کیا ہے وزیراعلی بلوچستان اخبارات کو ٹیکس سے استسنی قرار دینے کے اختیارات رکھتے ہیں جسٹس کامران ملا خیل نے استفسار کیا کہ وزیراعلی کیوں درجن بھر مشیر رکھ رہے ہیںکس نے اختیار دیا ہے آئین کے تحت کتنے ہونے چاہیں جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہمارا مقصد آپ کا امتحان لینا نہیں، آپ عوامی نمائندے ہیںہمیں وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس سے اللہ اور عوام راضی ہوںجسٹس جمال مندوخیل نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کی سرزنش کر تے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا مزید انتظار نہیں کرسکتے نمائندہ الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اگلی پیشی پر وکیل حاضر ہوجائے گا عدالت نے کیس کی سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی