کوئٹہ ، بلوچستا ن کے حکمران 70سالوں میں نہیں ٹھیک ہوئے تو اب ان سے وفا کی کوئی امید نہ رکھیں،سردار اخترجان مینگل

وہ مزید آپ سے سو سالوں میں بھی وفا نہیں کرسکیں گے بلوچستا ن میں جمہوریت نام کی کوئی چیز ہمیں تو نظر نہیں آتی ہے،سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی

جمعرات اپریل 23:33

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستا ن کے حکمران 70سالوں میں نہیں ٹھیک ہوئے تو اب ان سے وفا کی کوئی امید نہ رکھیں اور وہ مزید آپ سے سو سالوں میں بھی وفا نہیں کرسکیں گے بلوچستا ن میں جمہوریت نام کی کوئی چیز ہمیں تو نظر نہیں آتی ہے ہاں ہمیں جمہوریت صرف اخبارات کی سرخیوں اور نیوز چینل کی ہیڈ لائن میں جمہوریت نظر آتی ہے ان 5سالوں میں بلوچستا ن کے کہیں علاقے تباہ کئے گئے بلوچستان کی زمین کا ایک انچ بھی کسی کو نہیںدیں گے سی پیک کے نام پر بلوچستا ن کے عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے جبکہ سی پیک کا فائدہ پنجاب اور وفاق لے رہا ہے جبکہ سی پیک کا شہر گوادر کے عوام آج بھی پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں آج گوادر میں پینے کا پانی کا ٹینکر40ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ واٹر ٹینکر کے مالکان کو جو چیکس دیئے جاتے ہیں وہ چیکس بھی بونس ہورہے ۔

(جاری ہے)

ہیں جو حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے سی پیک کے نام پر چائنہ سے اربوں ڈالر کا معاہدہ کیا گیا ہے لیکن وہ اربوں ڈالر کہاں خرچ ہورہے ہیں یہ آج تک کسی کو نہیں پتہ گوادر شہر کی مثال کو پورے بلوچستا ن کے عوام کے سامنے ہیں کہ گوادر شہر نے کتنی ترقی کی ہے آج تک گوادر کے نوجوان کو روزگار تک نہیں ملا ہے ہمارے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در درکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ان خیالات کا اظہار سردار اختر جان مینگل نے گلشیری وندر میں نور بخش ڈگارزئی کے رہائشگاہ پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں میں بلوچستان کے علاقوں کو سندھ میں شامل کرنا نا انصافی ہے بلوچستان کے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر ہرکوئی لوٹ رہا ہے ہمیں سندھ والوں سے اسکی توقع نہیں تھی کوئی ہوتا تو الگ بات تھی کیونکہ ہم پر جو سخت وقت گزر رہا ہے ۔

وہی سندھ والوں پر بھی گزرا رہا اس لیے سندھ والوں کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ ایسا اقدام کرنا باعث تعجب ہے کیونکہ ہمیں سندھ والوں سے ایسے عمل کی ہرگز امید نہیں تھی مگر ہم بلوچستان کی زمین کا ایک انچ بھی کسی کو نہیںدیں گے سی پیک کے نام پر بلوچستا ن کے عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے جبکہ سی پیک کا فائدہ پنجاب اور وفاق لے رہا ہے جبکہ سی پیک کا شہر گوادر کے عوام آج بھی پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں آج گوادر میں پینے کا پانی کا ٹینکر40ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ واٹر ٹینکر کے مالکان کو جو چیکس دیئے جاتے ہیں وہ چیکس بھی بونس ہورہے ۔

ہیں جو حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے سی پیک کے نام پر چائنہ سے اربوں ڈالر کا معاہدہ کیا گیا ہے لیکن وہ اربوں ڈالر کہاں خرچ ہورہے ہیں یہ آج تک کسی کو نہیں پتہ گوادر شہر کی مثال کو پورے بلوچستا ن کے عوام کے سامنے ہیں کہ گوادر شہر نے کتنی ترقی کی ہے آج تک گوادر کے نوجوان کو روزگار تک نہیں ملا ہے ہمارے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در درکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستا ن کے حکمران 70سالوں میں نہیں ٹھیک ہوئے تو اب ان سے وفا کی کوئی امید نہ رکھیں اور وہ مزید آپ سے سو سالوں میں بھی وفا نہیں کرسکیں گے بلوچستا ن میں جمہوریت نام کی کوئی چیز ہمیں تو نظر نہیں آتی ہے ہاں ہمیں جمہوریت صرف اخبارات کی سرخیوں اور نیوز چینل کی ہیڈ لائن میں جمہوریت نظر آتی ہے ان 5سالوں میں بلوچستا ن کے کہیں علاقے تباہ کیئے گئے۔

کہیں خاندان کو ختم کیا گیا اون کے بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ کیاگیا بلوچستا ن کو یتیم خانہ بنایا گیا اور نہ ہی پینے کا صاف پانی دستیاب ہے ان تمام حالات میں بلوچ عوام کو متحد ہو کر حکمرانوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنی ہو گئی جب تک ہم اپنے اندر اتحاد واتفاق قائم نہیں کرینگے اس وقت تک بلوچ عوام کے مسائل حل نہیں ہونگے ا نہوں نے کہاکہ حکمران طبقات کی کمزوریوں ،کوتائیوں کی وجہ سے لوگ اپنے حقوق سے محروم ہیں انہیں ان کا جائز حق نہیں مل رہا ہے یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہو گا جب ہم سب ایک مضبوط ومنظم پلیٹ فارم پر متحد ہونگے بلوچستان میں ایک ہی عظیم وقوم پرست پارٹی ہے وہ ہے بی این پی جس کا منشور اپنے عوام کی حقوق وسائل وساحل کی دفاع کرنا اور اپنے عوام کو دلانا ہے اور اس حوالے سے ہم سب نے متفقہ طو ر پر فیصلہ کرنا ہو گاانھوں نے کہا کہ عوام دشمن طبقہ عوام کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے ۔

ان کے ہاتھوں کو کاٹنے وقت آگیا ہے انکی ہاتھیں ووٹ کی طاقت سے کاٹا جاسکتا ہے کیونکہ ان کا راستہ روکنے کا واحد طریقہ ووٹ ہے عوام اپنے مقدر کا فیصلہ کریں اور انتخابات میں ایسے نمائندوں کو آگے لائیں جو ان کی حقوق پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کریں اور انکے حق وحقوق کیلئے آواز بلند کریں کیونکہ انتخابات کے بعد لوگوں آتے رہے ہیں جو مسلسل لوگوں کا استحصال کر تے رہے ہیں ۔