موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا بھر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، جنگوں اور تنازعات کی طرح موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کی ضرورت ہے

وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان کی اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شمشاد اختر سے گفتگو

جمعرات اپریل 23:33

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا بھر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، جنگوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں جنگوں اور تنازعات کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور ایشیاء بحرالکاہل کے لئے اقتصادی و سماجی کمیشن کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والی ڈاکٹر شمشاد اختر سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعرات کو یہاں وزارت موسمیاتی تبدیلی میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان سے ملاقات کی۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا بھر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، زہریلی اور مضر رساں گیسوں کے انسانوں سمیت، زراعت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اورپانی کی قلت اور لائیو سٹاک اور صحت کے حوالہ سے منفی اثرات ہیں جبکہ آب و ہوا یعنی موسمیاتی تبدیلیوں سے ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان کے پاس تبدیلیوں پر قابو پانے کی جدید ٹیکنالوجی بھی نہیں ہے اس لئے بین الاقوامی برادری کو موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے ان ممالک کی مدد کرنی چاہیئے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے مزید کہا کہ اقوام متحدہ دنیا بھر میں جنگوں اور تنازعات پر قابو پانے میں فعال کردار ادا کرتا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی بھی ایک جنگ ہی ہے اور اقوام متحدہ کو موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لئے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنی چاہئے تاکہ وہ استعداد سازی کر سکیں اس موقع پر ڈاکٹر شمشاد نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کے پہلوئوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ہم پالیسیاں بناتے اور لوگوں کے آپس میںروابط کی کوشش کرتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لئے ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر پاکستانی ڈویلپمنٹ اکنامسٹ ، سفارتکار اور دانشور ہیں جو کہ اس وقت اقوام متحدہ کے سماجی و اقتصادی کمیشن کی سربراہ کے طو رپر انڈر سیکرٹری جنرل کے عہدہ پر کام کر رہی ہیں وہ پاکستان کے سٹیٹ بینک کی 14 ویں گورنر بھی رہی ہیں او رپاکستان میں اس عہدہ پر کام کرنے والی پہلی خاتون ہیں وہ اقوام متحدہ کے سابق سربراہ بان کی مون کی سینئر مشیر اور عالمی بینک کی وائس پریذیڈنٹ کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔