فیصل آباد، پاکستانی روپے کو مستحکم رکھنے کیلئے متوازن ، پائیدار اور زمینی حقائق سے مطابقت رکھنے والی معاشی پالیسیاں ناگزیر ہیں،شبیر حسین چاولہ

جن کی تشکیل کیلئے حکومت کو نجی شعبہ کو اعتماد میں لینا ہوگاروپے کی قدر میں کمی سے وقتی طو رپر ڈالر کی قیمت مستحکم ہوئی ہے اگر درآمدات او ربرآمدات میں بڑھتے ہوئے فرق اور ملکی معاملات کو چلانے کیلئے نئے قرضوں کے حصول کا سلسلہ جاری رہا تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں موجودہ استحکام وقتی ثابت ہوگا، صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری

جمعہ اپریل 23:20

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) پاکستانی روپے کو مستحکم رکھنے کیلئے متوازن ، پائیدار اور زمینی حقائق سے مطابقت رکھنے والی معاشی پالیسیاں ناگزیر ہیں جن کی تشکیل کیلئے حکومت کو نجی شعبہ کو اعتماد میں لینا ہوگاروپے کی قدر میں کمی سے وقتی طو رپر ڈالر کی قیمت مستحکم ہوئی ہے اگر درآمدات او ربرآمدات میں بڑھتے ہوئے فرق اور ملکی معاملات کو چلانے کیلئے نئے قرضوں کے حصول کا سلسلہ جاری رہا تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں موجودہ استحکام وقتی ثابت ہوگا۔

یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے سلسلہ میں ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ اس موقع پر معاشی صورتحال پر بحث میں حصہ لینے والوں میں سینئر نائب صدر شیخ فاروق یوسف، نائب صدر میاں عثمان رئوف ، حاجی محمد اصغر ،امجد سعید ، امجد علی امجد، شاہد ممتاز باجوہ، حلیم اخترملک، ، یعقوب اعوان، حاجی طالب حسین رانا، سید خالد محمود، میاں تنویر احمد ، جواد اصغر ، محمد افضل مغل ، مرزا توصیف احمد، محمد طیب اور رانا فیاض بھی شامل تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ غیر اعلانیہ اوران شیڈولڈ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ موسم گرما کے آغاز سے قبل ہی شروع ہو گیا ہے اور اس سلسلہ میں بہت جلد فیسکو حکام سے ملاقات کی جائے گی تاہم اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ خاص طو رپر صنعتی فیڈرز سے طے شدہ شیڈول کے برعکس لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔ انہوں نے ایگزیکٹو کمیٹی میں مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والے ممبران سے کہا کہ وہ اپنے اپنے شعبہ کے مسائل کی واضح نشاندہی کے علاوہ ان کے حل کیلئے قابل عمل تجاویز بھی دیںتاکہ اس سلسلہ میں چیمبر کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی جا سکے۔

صدر نے بتایا کہ حکومت آئندہ چند روز تک زرعی پالیسی کا اعلان کر رہی ہے توقع ہے کہ اس میں زراعت اور زرعی آلات سمیت اس شعبہ سے متعلقہ درآمدی اشیاء پر بھی سیل ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی زرعی آلات اور درآمدی مشینری پر یکساں طو ر پر سیل ٹیکس ختم کر دیا تو اس سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوگا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں زرعی آلات بنانے والے شعبہ کی نمائندگی کرنے والے امجد علی امجد سے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کریں ۔

تاہم امجد علی امجد نے بتایا کہ درآمدی زرعی مشینری سے سیل ٹیکس ختم کرنے سے مقامی صنعت پر منفی اثرات مرتب نہیںہونگے۔ ایگزیکٹو کے رکن حلیم اختر ملک کی طرف سے پنجاب اور دوسرے صوبوں کیلئے گیس کے نرخوں میں فرق کا ذکر کرتے ہوئے صدر شبیر حسین چاولہ سے کہا کہ سندھ کی صنعتوں کو گیس 480 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے مل رہی ہے جبکہ پنجاب کی صنعتوں کو اس کیلئے 1360 روپے فی ایم بی ٹی یو ادا کرنے پڑ رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کی سکیم بھی ختم ہو رہی ہے جس سے پنجاب کی صنعتوں کیلئے اپنے وجود کو برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ماحولیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماحولیات کے مضر اثرات کی روک تھام کیلئے بہر حال صنعتکاروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ برآمدات کیلئے بھی یہ ایک اہم شرط ہے اور جی ایس پی پلس کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے بھی ہمیں متعلقہ پروٹوکولز اور معاہدوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

گندم کی برآمد پر سبسڈی کے حوالے سے صدر شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ حکومت کو دوسرے ملکوں کو سستی گندم کی سہولت دینے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی یہی سہولت دینی چاہیے کیونکہ اس وقت حکومت کے پاس گزشتہ سالوں کا وافر سٹاک پڑا ہے جبکہ نئی فصل بھی آرہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گندم کی بجائے اس کی بائی پراڈکٹس کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ اس طرح نہ صرف مقامی صنعت ترقی کرے گی بلکہ لوگوں کو روزگار ملنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہو گا۔ آرا ینڈ ڈی سر ٹیفکیٹ کے اجراء کے سلسلہ میں انہوں نے ڈائریکٹر آر اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلہ میں تمام ضروری معلومات متعلقہ ممبران میں سرکولیٹ کریں۔