اسلام آباد، خواتین کے بھرپور کردار کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ، احسن اقبال

وفاقی پولیس میں خواتین کی تعداد بڑھانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ، خاتون ایس ایچ او تعینات کی جائے ، اسلام آباد پولیس کا الگ ہسپتال بنانے کیلئے 2ارب روپے مختص کئے ہیں پولیس محکوموں اور کمزوروں کی طاقت اور سہارا ہے ، خواتین اہلکاروں کو بہتر ماحول فراہم کیا جائے،اسلام آباد پولیس خواتین اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ماڈل بنے، وفاقی وزیرداخلہ

جمعہ اپریل 23:48

اسلام آباد، خواتین کے بھرپور کردار کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) وفاقی وزیرداخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ خواتین کے بھرپور کردار کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ، وفاقی پولیس میں خواتین کی تعداد بڑھانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ، خاتون ایس ایچ او تعینات کی جائے ، اسلام آباد پولیس کا الگ ہسپتال بنانے کیلئے 2ارب روپے مختص کئے ہیں ، پولیس محکوموں اور کمزوروں کی طاقت اور سہارا ہے ، خواتین اہلکاروں کو بہتر ماحول فراہم کیا جائے،اسلام آباد پولیس خواتین اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ماڈل بنے ۔

وہ جمعہ کو پولیس لائنز ہیڈ کوآرٹر ز میں خواتین پولیس اہلکاروں کے دربار سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر آئی جی پولیس ڈاکٹرسلطان اعظم تیموری نے بھی خطاب کیا ۔

(جاری ہے)

وزیرداخلہ نے خواتین پولیس کی شکایات ،مسائل اور تجاویز بھی سنیں۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے حوالے سے گمنام شکایات کے درست یا غلط ہونے سے قطع نظرمیں نے ضروری سمجھا کہ خود ان سے ملاقات کروں اسی لئے میں نے لندن سے ہی آئی جی کو ہدایت کی کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو جمع کریں ۔

و زیرداخلہ نے کہا کہ خواتین ہماری آبادی کے نصف سے بھی زائد 52فیصد ہیں ، انہیں ترقی کے عمل میں شامل کئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا ، تعلیم کے میدان سمیت ہر شعبے میں خواتین کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں ، کسی بھی عام یونیورسٹی میں جائیں وہاں لڑکیاں زیادہ ہیں ، حتیٰ کہ میرے اپنے حلقے نارووال میں یونیورسٹی کیمپس میں ساڑھے تین ہزار طلباء میں سے 80فیصد طالبات ہیں ، پہلے کلاس میں طلباء کم اور طالبات زیادہ نظر آئی ہیں ، یہ بڑی تبدیلی ہے جو سارے معاشرے میں رونما ہوئی ہے ، خواتین اب ہر شعبے میں آگے آرہی ہیں حتیٰ کہ سیکیورٹی کا شعبہ جو صرف مردوں تک محدود تھا وہ بھی وہاں بھی خواتین نظر آتی ہیں کیونکہ پرانے تصورات بدل گئے ہیں ، یہ کمیونٹی پولیسنگ کا دور ہے جس میں خواتین کیلئے مواقع مردوں کے برابر ہیں ۔

انسداد دہشت گردی کے شعبے میں بھی کارکردگی کے لحاظ سے وہ مردوں سے پیچھے تھیں ۔ میں نے اپنی فیس بک پر ٹیرازم کی تربیت لینے والی خواتین اہلکاروں کی تصویر لگائی تاکہ پاکستان کا امیج دنیا میں اجاگر ہو۔ وزیرداخلہ نے ہدایت کی کہ خواتین اہلکاروں کی تعداد فوری دگنا کی جائے اور جلد اسے 10فیصد تک لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں کیونکہ اس وقت مردوں کے تناسب سے بہت کم تعداد میں خواتین اہلکار ہیں ۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ خواتین اہلکاروں کو ہراساں کرنے کی جو شکایت سامنے آئی اس کے درست یا غلط ہونے سے قطع نظر یہ ایک حساس مسئلہ ہے ۔ اسلام آباد پولیس میں خواتین کو مثالی اور گھر جیسا ماحول فراہم کیا جائے اور انہیں پولیس فورس کے خاندان کے اندر بیٹی یا بہن کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے ، ایسا ماحول جو کہ انہیں ہراساں کرنا تو دور کی بات کوئی ایسی سوچ بھی دل میں نہ لا سکے ۔

اور اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے ایس پی سطح کی خاتون افسر کو محتسب کے طور پر مقرر کیا جائے تا کہ اگر کسی اہلکار کو شکایت ہو تو بلا خوف وخطر شکایت کر سکے ۔ خواتین اہلکاروں کیلئے ڈے کیئر کو مثالی بنایا جائے تا کہ وہ اپنے فرائض منصبی بے فکری سے سرانجام دے سکیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہدایت کی تھی کہ لیڈی ایس ایچ اور تعینات کی جائے لیکن بتایا گیا ہے کہ کوئی آفیسر سب انسپکٹر نہیں ہے ۔

وزیرداخلہ نے ہدایت کی کہ کسی خاتون افسر کو ترقی دے کر ایس ایچ او لگایا جائے یا کسی آفیسر کو ڈیپوٹیشن پر لانا پڑے تو لایا جائے ۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ اینٹی رائٹ پولیس کیلئے ایک ارب مختص کئے گئے ہیں جبکہ 2ارب روپے اسلام آباد پولیس کے ہسپتال کیلئے رکھے گئے ہیں ۔ اسلام آباد پولیس کا اپنا ہسپتال ہونا چاہیے ، پولیس جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کر رہی ہیں اسے بہترین سہولیات مہیا ہونی چاہیئں ، صوبوں کو بھی اس حوالے سے کام کرنا چاہیے ۔

انہوں نے خواتین پولیس اہلکاروں کی آمدورفت کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے اور ان کیلئے فزیکل فٹنس کلب بنانے کی بھی ہدایت کی ۔انہوں نے کہا کہ خواتین پولیس کیلئے ایسا ماحول فراہم کیا جائے جس میں وہ کسی بھی دبائو اور کود سے آزاد ہو کر کام کر سکیں اور اسلام آباد کو باقی ملک کیلئے مثال بنایا جائے گا ۔انہوں نے پولیس پر زوردیا کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو سلیوٹ کریں اور تحفظ کیلئے ان کی طرف دیکھیں ، پولیس کمزوروں اور محکموں کی طاقت بنے ۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ سات ماڈل پولیس سٹیشن تیار ہو گئے ہیں ۔ مزید سات بھی بنائے جائیں گے اور تمام 22قانون کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا لیکن پولیس کو اپنا رویہ اور کردار بھی مثالی بنانا ہوگا ۔ قبل ازیں آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ وزیرداخلہ کی آمد سے بالخصوص خواتین کے حوصلے بلند ہو ئے ہیں ۔ اسلام آباد پولیس میں 289پولیس اہلکار ہیں اور تمام ڈویژنر میں کام کر رہی ہیں ، 47خواتین اہلکار انسداد دہشت گردی کے شعبے میں کام کر رہی ہیں ، خواتین کی تعداد2.5فیصد سے بھی زائد ہے ۔

خواتین اہلکاروں کی شکایت میں 12اور برطانیہ میں 28فیصد سے بھی زائد ہیں ۔ خواتین اہلکاروں کی شکایات کے ازالے کیلئے 2012سے انسداد ہراسیت کمیٹی کام کر رہی ہے ۔ ہراساں کرنے گمنام شکایت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ، جو بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ وزیرداخلہ نے تقریب میں خواتین اہلکاروں کے سوالات کے جوابات بھی دیے اور ان کے لئے کوارٹرز، الگ بیرکس تعمیر کرنے کے علاوہ 2روز قبل حادثے میں جاں بحق ہونے والی خاتون اہلکار کی بہن کو نوکری فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔۔۔۔