صحت کی سہولتوں اور طبی کارکنوں پر حملوں میں خطرناک اضافہ
یو این
منگل 5 مئی 2026
21:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 مئی 2026ء) امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات میں ہسپتالوں، طبی عملے اور ایمبولینس گاڑیوں کو بدستور نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کئی علاقوں میں ان پر حملوں میں شدت آ رہی ہے۔
طبی عملے اور سہولیات کے خلاف تشدد کے نتیجے میں مریض علاج سے محروم ہو رہے ہیں، غیر محفوظ حالات میں زچگی کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور پورے کے پورے علاقے ضروری طبی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ
کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2286 میں متحارب فریقین پر طبی مراکز اور کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا گیا ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کو 10 برس مکمل ہونے پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس (آئی سی آر سی) اور ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقوں میں صحت کے تحفظ کو مزید بہتر اور محفوظ بنائیں۔(جاری ہے)
طبی سہولیات اور عملے کی حفاظت
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تنازع کے تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ طبی عملے، سہولیات اور نقل و حمل کو تحفظ فراہم کریں اور یقینی بنائیں کہ دیگر فریق بھی ایسا ہی کریں۔
ان اداروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ طبی کارکنوں اور مراکز پر حملوں کی باقاعدہ نگرانی اور ان کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔
مزید نقصان سے بچنے کے لیے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:- قرارداد 2286 کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیا جائے۔
- تمام ممالک متحارب فریقین پر بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالیں۔
- عسکری کارروائیوں اور جنگی قواعد میں طبی تحفظ کو شامل کیا جائے۔
- طبی خدمات کو تحفظ دینے کے لیے ملکی قوانین کو مضبوط بنایا جائے۔
- حفاظتی اقدامات کے لیے مناسب وسائل مہیا کیے جائیں۔
- طبی عملے اور مراکز پر حملوں کی تحقیقات کر کے ان کے ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے۔
- اس معاملے میں پیش رفت اور مسائل کی اطلاع دینے کا نظام وضع کیا جائے۔
تینوں اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو صحت کے شعبے پر حملے انسانی اصولوں کو مزید کمزور کریں گے اور شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
مزید اہم خبریں
-
بجلی کی قیمت میں 1پیسہ کمی کا اعلان
-
پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش پر بھارت کے بگلیہار ڈیم کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے
-
آئینی ترامیم نے نظامِ انصاف کو کمزور کردیا، عمران خان کی قید سیاسی ہے انہیں جیل میں نہیں ہونا چاہیے
-
ایل پی جی کی قیمت میں 31 پیسے کمی کا اعلان
-
ایران: نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کی گرتی صحت بارے تشویش
-
صحت کی سہولتوں اور طبی کارکنوں پر حملوں میں خطرناک اضافہ
-
افغان طالبان رجیم ایک پروپیگنڈا کے تحت پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا جھوٹا الزام لگا رہی ہے
-
معرکہ حق عوام، حکومت اورافواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے
-
حکومت نے 2030ء تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، مصطفی کمال
-
اسحق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، کرشنگ سیزن کے اختتام پر چینی کی پیداوار کا جائزہ لیا گیا
-
میوچل فنڈ کا شعبہ بچتوں کو متحرک کرنے، مالیاتی ثالثی کو مضبوط بنانے اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، وزیرخزانہ
-
حکومت مالیاتی شعبے کی ترقی کیلئے پرعزم ہے، وزیرخزانہ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.