کراچی کا امن لوٹائوں گا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر میں امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دے کر امن قائم کیا، کراچی میں برطرف خلاظت کے ڈھیر ہیںاور سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، طالبعلم ٹوٹی ہوئی بسوں پر اسکول اور کالج جانے پر مجبور ہیں، ہم کراچی میں پانی کی قلت اور ٹرانسپورٹ کی کمی دور کریں گے

وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کارکنوں سے خطاب

اتوار اپریل 23:21

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی کا امن لوٹائوں گا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر میں امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دے کر امن قائم کیا، کراچی میں برطرف خلاظت کے ڈھیر ہیںاور سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، طالبعلم ٹوٹی ہوئی بسوں پر اسکول اور کالج جانے پر مجبور ہیں، ہم کراچی میں پانی کی قلت اور ٹرانسپورٹ کی کمی دور کریں گے۔

اتوار کو کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ کراچی میں برطرف خلاظت کے ڈھیر ہیں، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیںاور بسیں ٹوٹی ہوئی ہیں، کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، طالبعلم ٹوٹی ہوئی بسوں پر اسکول اور کالج جانے پر مجبور ہیں، آپ کی جیبیں خالی کی گئیں، کراچی میں سہولتوں کا فقدان دیکھ کر افسوس ہوا، کراچی میں ہر قومیت کے لوگ موجود ہیں، کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، 70کی دہائی میں کراچی صاف ستھرا شہر تھا، 70کی دہائی میں کراچی جنوبی ایشیاء کا بیروت بنتا جارہا تھا، ناجانے کی کو نظر لیگ گئی، یہاں بھتہ خور آگئے، ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی اور دہشتگردی آگئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 2013میں جب نواز شریف آپ کے ووٹ سے منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں کراچی کا امن لوٹا?ں گا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نیشہر میں امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دے کر امن قائم کیا۔ ہم کراچی میں پانی کی قلت اور ٹرانسپورٹ کی کمی دور کریں گے، عوام نے موقع دیا تو کراچی کو لاہور جیسی ترقی دیں گے۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، کراچی آتا ہوں تو پیپلز پارٹی پریشان ہوجاتی ہے اور پشاور جاتا ہوں تو تحریک انصاف پریشان ہوجاتی ہے، نوجوانوں کو روزگار ملنے تک امن قائم نہیں ہوسکتا ، میں کراچی میں امن بحال کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں، کراچی میں کرپشن کے پنجیگاڑ رکھیں ہیں، کراچی کے شہریوں پر ظلم کیا گیا۔

رمضان میں کراچی کو پوری بجلی ملنی چاہیے، کراچی کے بجلی بحران میں زیادہ قصور کے الیکٹرک کا ہے، کے الیکٹرک کے 250میگاواٹ کے دوپلانٹس نہیں چلائے ، کے الیکٹرک کا واپڈا سے سستی بجلی لینے پر زور رہا، پیپلزپارٹی کہتی ہے مرسوں مرسوں کام نہ کرسوں۔