سانحہ کٹھوعہ کے ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے دستخطی مہم کا آغاز

منگل اپریل 11:15

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرکے ضلع کٹھوعہ میں کم سن آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف پورے مقبوضہ علاقے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران سانحے میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے سول سوسائٹی کی طرف سے ایک دستخطی مہم شروع کی گئی ہے جس میں ہائی کورٹ سے اس مقدمے کی سماعت جلد از جلد مکمل کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری غلام نبی شاہین اور سینئر صحافی امداد ساقی نے پرتاپ پارک لال چوک میں دستخط کرکے مہم کا آغاز کیا۔ ایڈووکیٹ جی این شاہین نے اس موقع پرکٹھوعہ سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ویلی سٹیزن کونسل کے سبھی ارکان معصوم بچی کے حق میں انصاف کی فراہمی کیلئے اس دستخطی مہم کے زریعے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم متاثرہ بچی کے ساتھ ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ معصوم بچی کو انصاف دلانے اور اس دل دہلانے دینے والے واقعہ میں ملوث افراد کو سزا دینے کیلئے امریکہ ، جرمنی اوردیگر ممالک سمیت دنیا بھر میں لوگوں نے اپنی آوا بلند کی ہے۔ انہوں نے کیس کے منصفانہ ٹرائل کو ریاست کے کسی بھی ماتحت عدالت میں ناممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ کو چاہیے کہ کٹھوعہ کیس کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ٹرائل کے حوالے سے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیارات کا استعمال کر کے عدالت عالیہ کے موجودہ ممبران پر مشتمل خصوصی جج کی تعیناتی عمل میں لائے تاکہ کیس کا ٹرائل منصفانہ طور پر مکمل کیا جاسکے۔

دستخطی مہم میں شامل افرادنے سانحہ کٹھوعہ کوانسانیت کے خلاف بدترین ظلم و بربریت قرار دیتے ہوئے مقدمے کا ٹرائل جموںو کشمیر میں ہی کرانے پر زور دیا۔