مقبوضہ کشمیر میں تین نوجوانوں کی شہادت پر مکمل ہڑتال

احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سخت پابندیاں عائد، انٹرنیٹ اور ٹرین سروسز معطل

منگل مئی 18:18

سرینگر ۔ یکم مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی اور احتجاجی مظاہرین پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ کے دوران تین نوجوانوں کی شہادت پر (آج) منگل کو مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دی تھی۔

بھارتی فوجیوں نے سمیر احمد بٹ ،عاقب مشتاق اور ایک کرکٹ سٹار شاہد اشرف ڈار کو ضلع پلوامہ کے علاقے دربگام میں شہید کیا تھا۔ بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے درجنوں مظاہرین زخمی بھی ہوئے تھے۔ سرینگر سمیت وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں دکانین اور کاروباری مراکز بندجبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

(جاری ہے)

کشمیر یونیورسٹی نے منگل کو ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے تھے۔

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ اور جموں خطے کے قصبے بانہال کے درمیان ٹرین سروس جبکہ پورے کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی تھیں۔ سرینگر اور جنوبی کشمیر میں سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیںجبکہ بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے بڑی تعداد میں بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ سرینگر کے علاقوں رعناواری، خانیار، نوہٹہ ، مہاراج گنج ، صفا کدل، مائسمہ اور کرالہ کھڈ میں خاص طور پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

دریں اثناء کشمیر بار ایسوسی ایشن نے دربگام پلوامہ میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے شہریوںپر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے خلاف احتجاج کے لیے منگل کو عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔ بار ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہاکہ نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کاظالمانہ استعمال انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔