کٹھ پتلی حکومت جموں خطے کے مسلمانوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے‘انجینئر رشید

جمعرات مئی 12:11

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں نام نہاد اسمبلی کے رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر عبدالرشید نے ضلع کٹھوعہ میں ہند و انتہا پسند غنڈوں کے ہاتھوں گیارھویں جماعت کے طالب علم لیاقت علی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت جموں خطے کے مسلمانوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انجینئر رشید نے ہندواڑہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کی طرف سے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے بہیمانہ واقعے کو معمولی قرار دینے کے بیان سے فرقہ پرستوںکو مزید شہ ملی ہے اور وہ خود کو کچھ بھی کرنے کیلئے آزاد سمجھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں جموں خطے کے مسلمان خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کا خون اتنا سستا ہو گیا ہے کہ بارھمولہ سے کٹھوعہ تک اسکی ارزانی کسی کو نظر نہیں آرہی۔ انجینئر رشید نے کہا کہ مسلمانوں کی آواز کو طاقت کے بل پر دبایا جا رہا ہے اور انکے جائز مطالبات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے شوپیاں سکول بس پر پتھرائو کو باعث تشویش قرار دیتے کشمیریوں سے اپیل کی کہ آپسی بھائی چارے کا ماحول قائم و دائم رکھیں۔