میرا اعتماد اٹھ رہا ہے‘جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہورہے ہیں اور جن کو بری ہونا چاہیے وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں-نوازشریف

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ مئی 14:25

میرا اعتماد اٹھ رہا ہے‘جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہورہے ہیں اور جن ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 مئی۔2018ء) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جنہیں بری ہونا چاہیے تھا وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں،جنہیں بری ہونا چاہیے تھا وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں پھر کہتے ہیں پاکستان میں صاف شفاف الیکشن کرائیں گے۔۔اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے عمران خان کی بریت پر رد عمل میں کہا کہ جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہورہے ہیں اور جن کو بری ہونا چاہیے وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں، عجیب منطق ہے، ایٹمی دھماکا کرنے، موٹرویز بنانے اور بجلی کے کارخانے لگانے والا نااہل ہے، کون اہل اور کون نااہل،کون کرپٹ ہےکون نہیں، عوام فیصلہ آئندہ الیکشن میں سنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے تو اپنی بیوی کی تیمار داری کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی، ہمارے کئی لوگوں کو توہین عدالت میں سزا ملی، پتا نہیں اور کتنے کو دینا چاہتے ہیں، پھر کہتے ہیں ملک میں شفاف الیکشن کرائیں گے، میرا اعتماد اٹھ رہا ہے، یہ باتیں کرنے والے اب شفاف الیکشن نہیں کراسکتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے الیکشن میں ایک ماہ تک تاخیر کا کہا ہے، یہی بات دو صاحبان پہلے بھی کہہ چکے ہیں، عمران خان نے لاہور جلسے کے بعد یہ بات کہی، انہیں عوام کی پذیرائی نہیں ملی، انہوں نے امپائر کی انگلی پر اعتماد کیا، انہیں پتا ہے عوام کے انگوٹھے ان کے حق میں نہیں لگنے، اس لیے وہ الیکشن کے التوا کی بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک ماہ کیا ایک گھڑی بھی الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ نواز شریف نے کہاکہ عمران خان نہ عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی ان پر مقدمہ چلا لیکن انہیں بری کردیا گیا،عوام کے محافظوں پر تشدد کرنے والوں کو بری کرنے سے کیا تاثر جارہاہے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان بنانے والوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اس ملک کے اندر آئین کے حکمرانی کے علاوہ کسی اور کی حکمرانی آئے گی قانون کی جگہ لاقانونیت آئے گی اور رول آف لاءختم ہوگا، 28جولائی کے فیصلہ کے بعد ملک میں جو انتشار پھیلا ہے اس سے ہماری اقتصادی ترقی سبوتاژ ہو گئی ہے-انہوں نے کہا کہ دنیا میں میڈیا کی آزادی آگے بڑھ رہی ہے جبکہ پاکستان میں آزادی پر پابندی لگا دی گئی ہے ماضی میں جو فوجی ادوار گزرے ہیں اس طرح کی پابندی ان ادوار میں بھی نہیں تھی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور میڈیا جانتا ہے کہ یہ پابندی کہاں سے لگ رہی ہیںصرف نواز شریف کی وجہ لے کر آپ نواز شریف کی زبان بندی کرنا چاہتے ہیں اس لیے پریس اور میڈیا کا بھی گلا گھونٹ دیں یہ بڑی زیادتی ہے-انہوں نے کہا کہ کبھی اظہار رائے کی آزادی اور بنیادی حقوق اور سول آزادیوں پر پابندی لگتی ہیں تو کبھی سیاسی قائدین پر لیکن آج یہ سارا کچھ ہو رہا ہے یہ کبھی جمہوریت میں سنا ہے اور دیکھا ہے دوسرے ملکوں کی طرف دیکھیں اپنے ملک کی طرف دیکھیں شرم سے سرجھک جاتا ہے-انہوں نے کہا کہ ہمارا اقتصادی حال اس انتشار 28 جولائی کے فیصلے کے بعد ملک کے اندر پھیلا ہے اس کی وجہ سے ہماری اقتصادی ترقی سبوتاژ ہو گئی ہے ڈالر کے مقابلہ میں روپیہ گر رہا ہے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں۔

ایک سوال پر کہ مریم نواز کے پاس کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں پھر بھی عمران خان مریم نواز کے خلاف بات کرتے ہیں اس پر نواز شریف نے کہاکہ اس سوال کا جواب عمران خان سے ہی لیا جائے ‘ ہمارے کئی لوگوں کو توہین عدالت میں سزا ملی ہے اور پتہ نہیں اور کتنوں کو دینا چاہتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ پاکستان کے اندر صاف اور شفاف الیکشن کرائیں گے میرا تو اعتماد اس بات سے اٹھ رہا ہے کہ یہ باتیں کرنے والے واقعی اب صاف اور شفاف الیکشن نہیں کروا سکتے۔صحافی کی جانب سے عمران خان کے بری ہونے کے سوال پر مریم نواز سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اوپر سے حکم آیا ہوگا۔