ایماندار اور قابل سرکاری افسران کی زیر سرپرستی پاکستان میں 1980 کی دہائی تک اداروں نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا،

ڈاکٹرعشرت حسین جب پارلیمانی نظام ملک چلا رہا ہو تو مسلح افواج کا کام بیرونی خطرات سے ملک کی حفاظت ہے، پاکستان کو سیاسی حکومت چاہئے، فوجی حکومت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، سابق گورنر اسٹیٹ بینک کا انٹرویو

جمعہ مئی 21:47

ایماندار اور قابل سرکاری افسران کی زیر سرپرستی پاکستان میں 1980 کی دہائی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سابق گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاہے کہ ایماندار اور قابل سرکاری افسران کی زیر سرپرستی پاکستان میں 1980 کی دہائی تک اداروں نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔1990 سے 2015 تک ہم زوال کا شکار رہے، بھارت اور بنگلہ دیش بھی ہم سے آگے نکل گئے، مدت پوری ہونے سے قبل حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، اداروں میں بھرتیوں کے دوران قابلیت اور ایمانداری کو اہمیت نہیں دی گئی۔

نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ 1960 سے 1980 تک ہمارے اداروں نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔1990 سے 2015 تک ہم زوال کا شکار رہے، بھارت اور بنگلہ دیش بھی ہم سے آگے نکل گئے، مدت پوری ہونے سے قبل حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، اداروں میں بھرتیوں کے دوران قابلیت اور ایمانداری کو اہمیت نہیں دی گئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ جب وفاداری کو ایمانداری اور قابلیت پر اہمیت دی جائے تو اداروں کی تباہی یقینی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرکاری ملازمین قابل اور بہترین تھے، پی آئی اے نے سنگاپور اور ایمریٹس جیسی ایئرلائنزپی آئی اے کی معاونت سے قائم ہوئیں اور دنیا کی بہترین ایئر لائنز بن گئیں۔انہوں نے کہاکہ آمر جانتے ہیں کہ قابل اور ابھرتے ہوئے سول سرونٹس اداروں کو بہترین انداز سے چلانے کیلئے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جنرل ایوب اور جنرل ضیا نے قابل افسران کو تعینات کیا جنہوں نے اداروں کو بہترین انداز سے چلایا۔

ڈاکٹرعشرت حسین نے کہاکہ جب پارلیمانی نظام ملک چلا رہا ہو تو مسلح افواج کا کام بیرونی خطرات سے ملک کی حفاظت ہے، پاکستان کو سیاسی حکومت چاہئے، فوجی حکومت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، پاکستانیوں کا حق ہے کہ 5 سال بعد اپنی مرضی سے کسی کو بھی منتخب کریں، مضبوط سیاسی حکومت ہی ملک کو بلندی کی طرف لے جاسکتی ہے۔انہوں نے مثال دی کہ 2013 کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو 5 سال مکمل ہونے کے بعد عوام نے مسترد کردیا تھا، جن دنوں ایم کیو ایم کراچی میں طاقت رکھتی تھی اس دوران پارٹی تواتر کے ساتھ اپنے ایم پی اے اور ایم این اے کے امیدوار تبدیل کرتی رہتی تھی۔

میں نے پوچھا کہ امیدوار تبدیل کرنے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ عوام شکایت کرتے ہیں کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کام نہیں کرتے، لہذا ہم انہیں تبدیل کرتے رہتے ہیں کیوں کہ ہمارے لئے حلقے کے عوام کی اہمیت ہے امیدوار کی نہیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں سیاسی جماعتوں پر عوام کی خدمت کیلئے دبائو ہوتا ہے، تمام اداروں میں اچھے لوگوں کو لائیں، انہیں وقت دیں اور ان کا احتساب کریں۔